جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ صدی کی ڈیل میں کیا اعلانات کرنا چاہتے ہیں؟ اہم انکشافات

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کومشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے سنچری ڈیل کا باقاعدہ اعلان کرنے اور اسے فریقین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف اس منصوبے سے آگاہی رکھنے والے سفارت کاروں نے اس حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔

ذرائع نے عر ب ٹی وی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سنچری ڈیل کے ذریعے اسرائیل کے لیے فلسطینی علاقوں پرڈی فیکٹو کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست کی سیکیورٹی کے لیے اراضی کے الحاق کی حمایت کریں گے۔اس کے بدلے میں امریکی انتظامیہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین مذاکرات کا آغاز کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ امریکیوں کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ پیش رفت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے گی۔امریکا عالمی قوانین اور بین الاقوامی قراردادوں سے قطع نظر فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی موجودہ حیثیت اور قبضے کو جوں کا توں تسلیم کرنے کا اعلان کررہا ہے۔یہ امریکی میکانزم اب تک ہونے والے تمام مذاکرات، ان میں ہونے والی پیش رفت اور امن اقدامات سے متصادم ہے۔ صدی کی ڈیل کے حوالے سے سامنے آنے والی تمام دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ امریکی انتظامیہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کالونیوں کواسرائیل کا حصہ تسلیم کرے گا۔امر واقع یہ ہے کہ اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ میں ان علاقوں پر قبضہ کیا اور وہ اس پر نہ صرف قابض ہے بلکہ اس نے یہاں بڑے پیمانے پر کالونیاں تعمیر کر رکھی ہیں۔

اس لیے اب اسرائیل کے لیے ان علاقوں سے پسپائی یا واپسی ممکن نہیں۔ امریکا بھی اس نام نہاد حقیقت کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔عرب ٹی وی کو دستیاب تمام معلومات ان سفارت کاروں کے ذیعے ملی ہیں جنہوں نے صدی کی ڈیل کا مسودہ تیار کرنے میں یا تو مدد کی ہے یا انہیں نے اسے بہ غور پڑھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنچری ڈیل میں امریکا نے اسرائیل کی سیکیورٹی کی ضروریات پر زور دیا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی کی ضرورت کے پیش نظر صہیونی ریاست کو وادی اردن پر اپنا تسلط قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس طرح پوری اردنی سرحد پر اسرائیل ہی کا سیکیورٹی کنٹرول قائم ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…