جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارت نے یونیورسٹی میں فیض احمد فیض کی نظم پڑھنے پر پابندی لگا دی، برداشت نہیں کر سکتے، حیران کن موقف

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن) انڈین اینسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طالبعلموں پر فیض احمد فیض کی نظم ہم دیکھیں گے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی، انتظامہ کا کہنا ہے کہ یہ نظم اینٹی ہندو ہے جس کہ وجہ سے ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے ان نظم کے نظریے کو سمجھنے کے لئے ایک بنچ تشکیل دے دیا ہے۔

حتمیٰ فیصلہ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔یونیورسٹی انتطامیہ نے یہ بینچ ایک استاد کی شکایت کے بعد بنایا۔ استاد نے شکایت کی تھی کہ طالبعلم یہ نظم بہت زیادہ پڑھتے ہیں اور یہ نظم مختلف مظاہروں میں پڑھی جا چکی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ نظم اینٹی ہندو ہے۔ درخواست میں مزید لکھا گیا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی میں یہ نظم پڑھنے اور سننے پر پابندی لگا دی جائے۔پینل اس بات کا فیصلہ کر ے گا کہ خواہ اس نظم کا مفہوم کیا ہے اور کیا ان کے طالبعلم بھی مختلف مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ان تمام عناصر کو دیکھتے ہوئے پھر حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔یاد رہے کہ فیض احمد فیض نے یہ نظم 1979 میں اس وقت کے ڈیکٹیٹر ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔ درحقیقت یہ نظم پاکستان میں فوج راج کے خلاف لکھی گئی تھی۔انڈین انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طالبعلموں نے 17 دسمبر کو ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں وہ جامعہ میلیا اسلامیہ کے طالبعلموں سے اظہار یکجہتی کر رہے۔ اس مظاہرے میں یہ نظم بار بار سننے میں آئے تھی جس کے جواب میں یونیورسٹی انتظامہ نے اس کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بنائے جانے والا بنچ مظاہرے کی فوٹیج اور تمام تفصیلات دیکھ کر ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچیں گے۔ حتمی فیصلے تک نظم پڑھنے پر پابندی عائد رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…