جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے یونیورسٹی میں فیض احمد فیض کی نظم پڑھنے پر پابندی لگا دی، برداشت نہیں کر سکتے، حیران کن موقف

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(آن لائن) انڈین اینسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طالبعلموں پر فیض احمد فیض کی نظم ہم دیکھیں گے پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی، انتظامہ کا کہنا ہے کہ یہ نظم اینٹی ہندو ہے جس کہ وجہ سے ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے ان نظم کے نظریے کو سمجھنے کے لئے ایک بنچ تشکیل دے دیا ہے۔

حتمیٰ فیصلہ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔یونیورسٹی انتطامیہ نے یہ بینچ ایک استاد کی شکایت کے بعد بنایا۔ استاد نے شکایت کی تھی کہ طالبعلم یہ نظم بہت زیادہ پڑھتے ہیں اور یہ نظم مختلف مظاہروں میں پڑھی جا چکی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ نظم اینٹی ہندو ہے۔ درخواست میں مزید لکھا گیا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی میں یہ نظم پڑھنے اور سننے پر پابندی لگا دی جائے۔پینل اس بات کا فیصلہ کر ے گا کہ خواہ اس نظم کا مفہوم کیا ہے اور کیا ان کے طالبعلم بھی مختلف مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ان تمام عناصر کو دیکھتے ہوئے پھر حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔یاد رہے کہ فیض احمد فیض نے یہ نظم 1979 میں اس وقت کے ڈیکٹیٹر ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔ درحقیقت یہ نظم پاکستان میں فوج راج کے خلاف لکھی گئی تھی۔انڈین انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طالبعلموں نے 17 دسمبر کو ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں وہ جامعہ میلیا اسلامیہ کے طالبعلموں سے اظہار یکجہتی کر رہے۔ اس مظاہرے میں یہ نظم بار بار سننے میں آئے تھی جس کے جواب میں یونیورسٹی انتظامہ نے اس کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بنائے جانے والا بنچ مظاہرے کی فوٹیج اور تمام تفصیلات دیکھ کر ہی کسی حتمی فیصلے پر پہنچیں گے۔ حتمی فیصلے تک نظم پڑھنے پر پابندی عائد رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…