جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بابری مسجد کا ملبہ حاصل کرنے کے لیے بھارتی مسلمانوں نے انتہائی اقدام اٹھا لیا

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بابری مسجد کی بازیابی کے لیے طویل جد و جہد کرنے والی مسلم تنظیموں نے کہاہے کہ مسجد تو انہیں نہیں ملی تاہم اس کے ملبے پر مسلمانوں کا حق ہے، جس کے لیے عدالت سے جلد ہی رجوع کیا جائے گا۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے اس

معاملے پر ایک اجلاس طلب کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بابری مسجد کے ملبے پر مسلمانوں کو اپنا دعوی  پیش کرنا چاہیے۔ کمیٹی کے رکن اور مسجد کے وکیل ظفر یاب جیلانی کا کہناتھا کہ بابری مسجد کے ملبے کو ادھر ادھر نہیں پھینکا جا سکتا،اس سلسلے میں ہماری ایک میٹنگ ہوئی اور علماء سے مشورہ کیا گیا۔ مسجد کی باقیات کو ادھر ادھر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس سے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچے گی۔ چونکہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں میں کوئی ہدایت نہیں کی، اس لیے ہم اس کے لیے ایک عرضی داخل کریں گے۔ بابری مسجد کا ملبہ عزت و احترام کے ساتھ حاصل کیا جائیگا۔مسلم پرسنل بورڈ کے سرکردہ رکن اور ترجمان قاسم رسول الیاس کا کہنا تھا کہ مسجد کے ملبے پر مسلمانوں کا حق ہے اور یہ طے کرنے کے بعد کہ مناسب جگہ ہائی کورٹ ہے یا پھر سپریم کورٹ، درخواست دائر کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…