جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے، اصل حالات سامنے کیوں نہیں آ پا رہے؟ بھارتی اخبار ٹیلی گراف نے بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 29  دسمبر‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی) مقبوضہ کشمیرمیں اطلاعات کی آزادانہ فراہمی روک دی گئی ہے اور صحافیوں کو خبروں کے حصول، تحقیق اور ترسیل میں مسلسل شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی معطلی سے سب سے زیادہ نقصان مقامی پریس کا ہوا ہے کیونکہ اس کا کام بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔

رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے پریس کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ مقامی اخبارات میں شائع ہونے والا مواد سینسر زدہ اور حکومت کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیر کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے روزنامے 5اگست کے بعد کئی مہینوں تک نئی ابھرنے والی صورتحال پر اداریے شائع کرنے سے اجتناب کرتے رہے اور وہ قدرت کے رازوں، صحت، ادویات اور شاعری وغیرہ پرلکھتے اور تبصرہ کرتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مواصلاتی ذائع کی معطلی اور فوجی محاصرے کے نفاذ سے لوگوں کو درپیش مشکلات پر بہت کم یا کچھ بھی نہیں لکھا جاتا تھا۔ اخبار نے بتایا کہ کشمیر کے معروف روزناموں میں مواصلاتی ذرائع کی معطلی سے لوگوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات، ہزاروں نوجوانوں کی گرفتاری، تشدد، طبی سہولیات اور دیگر ہنگامی سروسز کی عدم فراہمی پر کوئی خبریں شائع نہیں ہوتی تھیں۔ زیادہ ترمقامی اخبارات کے آن لائن ایڈیشنز معطل رہے۔ اخبار نے لکھا کہ 5اگست کے بعد خفیہ ایجنسیاں اور پولیس صحافیوں کو طلب کرکے ان سے خبروں کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے تھے جس سے مقامی رپورٹرز اور ایڈیٹرز کے لیے خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔ دریں اثناء اتوار کو مسلسل 147ویں روز بھی انٹرنیٹ کی عدم فراہمی اور مسلسل فوجی محاصرے کی وجہ سے کشمیر طلباء ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ وہ نہ تو کشمیر سے باہرسکالرشپس کے لیے اور نہ ہی مختلف مقابلے کے امتحانات کے لیے درخواست دے سکتے ہیں

جبکہ 2019مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے سب سے زیادہ نقصاندہ ثابت ہوا ہے۔ طلباء اگست سے کلاسز میں شریک نہیں ہوسکے اور10دسمبر کو تین ماہ طویل سرمائی تعطیلات کا اعلان کیا گیا جسکا مطلب ہے کہ وہ مسلسل آٹھ ماہ تک تعلیم کے حصول سے محروم رہیں گے۔ ادھردرجہ حرارت نکتہ انجماد سے مسلسل گرنے کے باعث مشہور جھیل ڈل اتوا ر کو منجمد ہوگئی اور سرینگر میں گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.2 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔ وادی کشمیر اور لداخ خطے میں کم سے کم درجہ حرارت نکتہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے رہا جس سے مقبوضہ علاقے میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…