جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

 بھارتی افواج نے کشمیری عزا داروں کو محرم الحرام کا جلوس نکالنے سے روک دیا،شدیدجھڑپیں

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

سری نگر(آن لائن) مقبوضہ وادی کشمیر میں قابض بھارتی افواج نے مظلوم، بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کو نویں محرم الحرام کا جلوس نکالنے اور مجالس عزا منعقد کرنے سے روکنے کے لیے پوری وادی میں مزید خاردار تاریں بچھادی ہیں۔ تازیوں کے جلوسوں کو بھی نکلنے سے روکا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے مزید تازہ دم فوجی دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔ کرفیو زدہ علاقوں میں مزید سختی کردی گئی ہے۔

مقبوضہ وادی چنار میں مسلسل کرفیو کا آج 36 واں دن ہے۔کرفیو کی عائد مزید سخت پابندیوں کے باوجود مقبوضہ وادی چنار کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عزاداران حسین محرم الحرام کے جلوس نکالنے اور مجالس عزا کے انعقاد کی کوشش کررہے ہیں جس کی وجہ سے بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔گزشتہ روز جب عزاداران حسین نے آٹھویں محرم الحرام کا جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی تو انتہاپسندانہ سوچ کی حامل بھارتی حکومت کی ایما پر افواج، پیرا ملٹری فورسز اور پولیس نے مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے نکلنے والوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا، ان پر گولیاں چلائی تھیں، بدنام زمانہ پیلٹ گنز کی فائرنگ کی تھی اور آنسو گیس کے شیل برسائے تھے۔بھارت کی قابض افواج نے اپنی بہیمانہ کارروائیوں سے ایک درجن سے زائد معصوم شہریوں کو شدید زخمی کردیا تھا۔ تصادم کے زیادہ تر واقعات سری نگر کے علاقوں رینا واری اور بڈگام میں پیش آئے تھے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق معصوم و نہتے کشمیریوں پر بدترین ریاستی جبر و تشدد کی بھیانک تاریخ رقم کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اپنے بچا کے لیے بلٹ پروف جیکٹس پہنی ہوئی تھیں اور ہیلمٹوں سے سرڈھانپ رکھے تھے تاکہ بے بسی کا شکار کشمیریوں کی جانب سے متوقع پتھرا سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ بھارت کی سیکیورٹی فورسز نے سری نگر کے مرکزی علاقے لال چوک اور اس کے اطراف میں انتہائی سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے

باقاعدہ ہدایات جاری کی تھیں کہ شہری گھروں سے باہر نہ آئیں۔ مودی حکومت میں وفاقی وزیر کے مساوی درجے کے حامل مشیر برائے قومی سلامتی امور اجیت دوول نے اس ضمن میں واضح طور پر کہا تھا کہ قیام امن و امان اور لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ان پر پابندیوں کا نفاذ ضروری ہے۔ دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے حوالے سے مشہور اجیت دوول نے دعوی کیا تھا کہ صرف دس پولیس اسٹیشنز کی حدود میں محدود نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…