ایک نشست میں 3بار طلاق دینے کی شکایت پر خاتون کو بیٹی کے سامنے زندہ جلا دیاگیا،لرزہ خیز واقعہ‎

  پیر‬‮ 19 اگست‬‮ 2019  |  20:36

لکھنو(آن لائن) بھارت میں ایک نشست میں 3 بار طلاق دینے کی شکایت پولیس میں درج کرانے والی خاتون کو شوہر اور سسرالیوں نے مل کر زندہ جلادیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کی 22 سالہ سعیدہ کو مبینہ طور پر اس کے شوہر نفیس اور سسرالیوں نے مل کر 5 سالہ بیٹی کے سامنے زندہ جلا دیا۔سعیدہ کے والد رمضان خان نے پولیس کو بتایا کہ داماد جو ممبئی میں کام کرتا ہے، نے ٹیلی فون پر ایک ہی نشست میں 3 طلاقیں دے دیں جس پر میری بیٹی نے تھانے میں شکایت درج کرانی


چاہی تاہم پولیس نے کہا کہ جب شوہر ممبئی سے آئے تو تھانے آنا۔چند دنوں بعد نفیس گھر آیا تو پولیس میاں بیوی کو تھانے لے گئی اور پوچھ گچھ کے بعد دونوں کو ایک ساتھ رہنے کا مشورہ دیا۔ تھانے سے واپسی پر نفیس نے میری بیٹی کو پولیس میں شکایت درج کرانے کی پاداش میں زندہ جلا دیا۔سعیدہ کی 5 سالہ بیٹی جو اس دردناک واقعے کی عینی شاہد بھی ہے نے پولیس میں بیان قلم بند کراتے ہوئے بتایا کہ والد نے نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد گھر ا?تے ہی والدہ کو مارنا پیٹنا شروع کردیا اور اسی دوران دادا، دادی اور پھوپھیاں بھی آگئیں۔بیٹی نے پولیس کو مزید بتایا کہ والد نے ماں کو بالوں سے گھسیٹ کر فرش پر گرادیا اور دونوں پھوپھیوں نے ماں پر مٹی کا تیل چھڑکا جب کہ دادا دادی نے ماچس جلا کر آگ لگادی۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی تاہم گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ سیدہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔یاد رہے کہ 2017 میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک ساتھ تین طلاق کے عمل کو غیر آئینی قرار دے دیتے ہوئے حکومت کو اس سلسلے میں نیا قانون بنانے کا حکم دیا تھا جس پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے 3 طلاق کے خلاف قانون منظور کرلیا تھا جس کے تحت شوہر کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

موضوعات:

loading...