پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بے قصور کشمیری نوجوان کو جیپ کے آگے باندھنے والے بھارتی میجر کو سخت سزا سنا دی گئی

datetime 8  مئی‬‮  2019 |

سری نگر(سی پی پی ) مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ نوجوان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے بھارتی میجر گوگوئی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا سنادی گئی۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق میجر لیتل گوگوئی نے 2017 مین کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ کے آگے باندھ کر اسے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا جس کے بعد دنیا بھر میں اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عوامی ردعمل اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبے پر میجر کو کشمیر سے ہٹا کر واپس بھارت بھیج دیا گیا تھا جس کے بعد فوج نے اس کا کورٹ مارشل کیا۔کورٹ مارشل کے دوران میجر لیتل گوگوئی کو بھارتی فوج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری کا مرتکب پایا گیا کیونکہ انہوں نے کشمیر میں تعیناتی کے بعد ڈیوٹی میں سنگین غلفتیں کیں اور خواتین کو ڈرا دھمکا کر ان سے روابط بھی بڑھائے۔میجر نے انکشاف کیا کہ اس نے کشمیری نوجوان کو جیپ کے آگے اپنی مرضی سے باندھا اور کسی افسر کو اس حوالے سے مطلع نہیں کیا۔ بھارتی فوج نے کورٹ مارشل کے انکشافات کے بعد لیتل گوگوئی کے عہدے میں تنزلی کردی اور اس کو معینہ مدت تک معطل بھی کردیا۔بھارتی میجر کے ساتھ جیپ کے ڈرائیور سمیر ملا کو بھی قصور وار قرار دیا گیا تاہم اس کی سزا کا اختیار یونٹ کے کمپنی کمانڈر کو دے دیا گیا۔ بھارتی میجر کو دی جانے والی سزا کی توثیق آرمی چیف نے بھی کردی۔یاد رہے کہ 2017میں کشمیری نوجوان کو جیپ کے آگے باندھ کر انسانی ڈھال بنایا گیا تھا جس کے بعد بھارتی میجر کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…