پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

پلوامہ حملے کے بعد مودی کی جماعت کو پہنچنے والا فائدہ ختم،بھارتی انتخابات میں عوام ووٹ کس کو دیں گے؟تازہ ترین سروے نے بی جے پی کو ہلاکر رکھ دیا

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت میں جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں، پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں قوم پرست جذبات کے سیاسی فوائد مدھم پڑھتے جا رہے ہیں اور سماجی و اقتصادی مسائل دوبارہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔پلوامہ حملے کے تناظر میں پاک بھارت کشیدگی کی حالیہ لہر اور اس دوران پائے جانے والے قوم پرست جذبات سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کو جو فائدہ پہنچا تھا،

وہ اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق یہ انکشاف بھارت میں کرائے گئے رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے نتائج کی بنیاد پر کیا گیا ۔ سی ووٹر پولنگ ایجنسی کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور پر عوامی رائے یا تائید انتیس فیصد تھی جبکہ اب مارچ کے اواخر میں یہ پندرہ فیصد پر آن پہنچی ہے۔سی ووٹر پولنگ ایجنسی کے مطابق سلامتی سے متعلق امور پر عوام کی رائے میں تبدیلی یا اس کی اہمیت میں کمی، بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے پریشانی کا سبب ہے کیونکہ یہ وہ معاملہ ہے، جس میں بی جے پی اپنی حریف جماعت کانگریس پر سبقت لیے ہوئے تھی۔ رائے عامہ کے جائزے میں شریک افراد کی رائے میں فضائی حملے اور قوم پرست جذبات نے عوام کی توجہ بڑھتی ہوئی بے روز گاری اور دیگر کئی سماجی اور اقتصادی مسائل سے ہٹا دی تھی تاہم اب جیسے جیسے الیکشن قریب آ رہے ہیں، یہ مسائل دوبارہ عوام کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ بھارت میں جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں، پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں قوم پرست جذبات کے سیاسی فوائد مدھم پڑھتے جا رہے ہیں اور سماجی و اقتصادی مسائل دوبارہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔پلوامہ حملے کے تناظر میں پاک بھارت کشیدگی کی حالیہ لہر اور اس دوران پائے جانے والے قوم پرست جذبات سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کو جو فائدہ پہنچا تھا، وہ اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…