جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

خواتین میڈیا پر کام کرسکتی ہیں یا نہیں ؟سعودی عالم دین نے فتویٰ جاری کردیا

datetime 14  مارچ‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض(سی پی پی )ممتاز سعودی عالم ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے اپنے تازہ ترین فتویٰ میں خواتین کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر کام کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر المطلق نے کہا کہ خواتین ذرائع ابلاغ کے ذریعے دینی و سماجی علوم اور نیکی کے کاموں کا پرچار کر سکتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایک سعودی ٹی وی چینل پر پیش کیے جانے والے دینی پروگرام کے دوران کہی۔

ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ کیا خواتین سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا پر کام کر سکتی ہیں تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت بعض چینلز سے خواتین دینی اور تبلیغی پروگرام پیش کر رہی ہیں۔ ایسا کرنے میں کوئی مناہی نہیں تاہم اس دوران حجاب کی پابندی کا خیال رکھنا لازمی ہے۔خواتین کو اسلام کے پرچار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ مرد حضرات کی خواتین کی آواز سننے میں کوئی قباحت نہیں۔کیونکہ ان دِنوں ریڈیو اور ٹی وی پر سوال کرنے والوں میں پچاس فیصد تعداد خواتین کی ہی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر المطلق شاہی ایوان کے مشیر ہونے کے علاوہ مملکت کے اہم علما بورڈ کے رکن بھی ہیں۔ڈاکٹر عبدالمطلق نے کچھ عرصہ قبل سعودیوں کو تاکید کی تھی کہ وہ ایک سے زائد شادیاں کریں تاکہ مطلقہ خواتین اور بڑھتی عمر کی حامل کنواری خواتین کو تحفظ مِل سکے۔شیخ المطلق نے کہا کہ اسلام کی رو سے کثیر الازدواجی کی ممانعت نہیں ہے۔البتہ بعض اوقات معاشرے میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں یہ جرم کی شکل اپنا لیتا ہے۔کسی سماج میں زائد عمر کی کنواریوں اور مطلقہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو جانے کی صورت میں ایک سے زائد شادیاں ضروری ہو جاتی ہیں تاکہ مذکورہ خواتین کو سہارا مِل سکے۔

اس وقت بہت سی بچیاں جوانی ڈھلنے کے باوجود شادی شدہ زندگی کی خوشیوں سے محروم ہیں۔ جبکہ کچھ خواتین طلاق یافتہ ہونے کے بعد تنہائی، بے بسی اور کسمپرسی کا جیون بِتانے پر مجبور ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ایک سے زائد شادیاں کریں۔ جبکہ بیویوں کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں کی دوسری شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے اس نیک کام میں انہیں اپنا بھرپور تعاون دیں۔ البتہ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ یکساں حسنِ سلوک اور مساوات کا رویہ اپنائے تاکہ خانگی تلخیاں جنم نہ لیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…