اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

اولاد سے تنگ بے رحم اردنی شہری نے اپنا ہی شیر خواربچہ سمندر برد کردیا

datetime 13  مارچ‬‮  2019 |

بنکاک(این این آئی)تھائی لینڈ میں پولیس نے ایک اردنی شہری کو حراست میں لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے شیر خوار بچے کو اس کے واکر سمیت سمندر میں پھینک کر قتل کردیا۔ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے بچے کو خود قتل کیا کیونکہ وہ اولاد نہیں چاہتا تھا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے ایمی گریشن حکام کا کہنا تھا کہ اپنے ایک سالہ بچے کو سمندر میں پھینکنے والے شخص کی شناخت وائل نبیل سلمان زریقات کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 52 سال ہے۔بچے کے قتل کا یہ واقعہ تھائی لینڈ کے شہر باٹایا میں پیش آیا جہاں ایک اردنی شہری چھٹیاں گذارنے اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ موجود تھا۔اردنی شہری کو پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب ماہی گیروں کو ایک شیر خوار کی میت ملی۔تھائی ایمی گریشن سوراخاتی ھاکبارن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک سالہ بچے کو اس کے واکر کے ساتھ باندھا اور سمندر میں پھینک دیا۔ وہ بچے نہیں چاہتا تھا، اس لیے اس نے ایسا کیا۔سفاک شخص کی اہلیہ نے بتایا کہ اس کا والد بچوں سے تنگ تھا اور اس نے بہت سے لوگوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ بچوں کو نہیں چاہتا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ وہ کسی وقت کسی بچے کو مار دے گا۔تھائی لینڈ کے قانون کے تحت اردنی شہری پرمقدمہ چلایا جائے گا۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…