اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ذاتی وجوہات کی بناء پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے عہدے سے مستعفی

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔ایرانی ٹی وی کے مطابق انھوں نے انسٹاگرام پر اپنے استعفے کا ا علان کردیا ۔انھوں نے انسٹا گرام پر اپنے صفحے پر لکھا کہ میں گذشتہ برسوں کے دوران میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے خود سے ہونے والی لغزشیوں اور کمیوں ،کوتاہیوں پر معذرت خواہ ہوں۔میں ایرانی قوم اور حکام کا شکرگزار ہوں۔

جواد ظریف نے جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن گذشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے انھیں مغرب مخالف سخت گیروں کے تندوتیز حملوں کا سامنا تھا۔بعض ذرائع نے جواد ظریف کے استعفے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا صدر حسن روحانی اس کو منظور کر لیں گے۔واضح رہے کہ امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جبکہ اس سمجھوتے میں شامل تین یورپی ممالک فرانس ، برطانیہ اور جرمنی امریکا کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ ایران میں کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔مگر خود جواد ظریف نے امریکا کی دستبردار ی کے بعد ایک بیان میں جوہری سمجھوتے کو قریبِ مرگ مریض قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ جوہری سمجھوتا جان کنی کے عالم میں ہے اور یورپی فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران میں کوئی واضح موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی موت آپ مررہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یورپی اب اور کتنی دیر امریکی پابندیوں کی مزاحمت کریں گے کیونکہ یورپی کمپنیوں کے زیادہ تر حصص داران تو امریکی ہیں۔جواد ظریف نے مغرب کے ساتھ یہ جوہری سمجھوتا طے پانے کے کوئی ڈیڑھ ایک سال کے بعد ایران کی قومی سلامتی کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران میں فیصلے کی غلطی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…