اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

انقلاب کے چالیس سال بعد بھی ایران کو سخت گیر کنٹرول کررہے ہیں،ٹونی بلیئر

datetime 10  فروری‬‮  2019 |

لندن(این این آئی)برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ انقلاب کے چالیس سال کے بعد بھی ایران کو سخت گیر کنٹرول کررہے ہیں اور وہ ریاست کے اندر ایک نظریہ بن چکا ہے۔عرب ٹی وی سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ ایران انتہا پسند گروپوں کے ذریعے اپنے اثر ونفوذ کو پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی ملیشیا اس کی مثالیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ

ایران مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی بھی حمایت نہیں کرتا ہے اور اس نے شام میں اسد رجیم کی حمایت کی ہے۔ جوہری سوال بھی اہمیت کا حامل ہے۔ جوہر ی طاقت کے ساتھ یہ نظام بہت ہی تباہ کن اور خطرناک ہوگا لیکن جوہری ہتھیاروں کے حصول کے بغیر بھی ایران عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اثر ونفوذ رکھتا ہے۔ٹونی بلیئر کے خیال میں مشرقِ اوسط میں کشمکش کے حوالے سے مغرب کا محدود نقطہ نظر بھی ایک مسئلہ ہے۔ انھوں نے اس کی مزید وضاحت کی کہ یہ سنی بمقابلہ شیعہ یا ایران بمقابلہ سعودی عرب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں آیندہ ہفتے ہونے والی کانفرنس اس سمت کی جانب ایک اہم قدم اور اہمیت کی حامل ہے۔یہ کانفرنس امریکا ، برطانیہ ، یورپ اور خطے میں موجود طاقتوں کے درمیان اتحاد کی تشکیل کے ضمن میں بھی اہمیت کی حامل ہے۔خطے کے ان ممالک کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ ایران ایک شیعہ قوم ہے یا ایران سے ایرانی مفادات کی بنا پر معاملہ کیا جارہا ہے بلکہ وہ اس اصول پر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ مذہب کی سیاست میں اپنی ایک خاص جگہ ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…