صنفِ نازک کے حقوق کی قیمت پر طالبان سے امن سمجھوتا نہ کیا جائے : افغان خواتین

  جمعرات‬‮ 7 فروری‬‮ 2019  |  12:25

کابل(این این آئی)افغانستان میں طالبان کے سخت گیر دورِ حکومت میں مشکلات کا سامنا کرنے والی خواتین نے ملک کی سیاسی اشرافیہ پر زور دیا ہے کہ ان کے حاصل کردہ بنیادی جمہوری حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور طالبان سے مذاکرات میں ان کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہ کیا جائے۔غیرملکی خبررساں خبررساں ادارے کے مطابق افغان خواتین کے نیٹ ورک نے خبردار کیا کہ طالبان سے معاملہ کاری میں ان کے حقوق کو سیاسی آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔کابل میں قائم خواتین

نیٹ ورک کی رابطہ کار مشعل روشن کا کہنا تھا کہ ان سیاست دانوں کو خواتین کو ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ان ( طالبان ) کی واپسی ہوتی ہے اور وہ خواتین پر نئی پابندیاں عاید کرتے ہیں تو ہم ان کو قبول نہیں کریں گے۔انھوں نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ سترہ سال کے دوران میں افغان خواتین نے سخت محنت اور جدوجہد سے بعض کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ہم انھیں ضائع نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ ہر کسی کو ہمارے اس حق کا احترام کرنا چاہیے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چودھری برادران میں پھوٹ کیسے پڑی؟

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎

میں نے مونس الٰہی سے پوچھا ’’خاندان میں اختلافات کہاں سے شروع ہوئے؟‘‘ ان کا جواب تھا’’جائیداد کی تقسیم سے‘ ظہور الٰہی فیملی نے اپنے اثاثے ہمارے بچپن میں آپس میں تقسیم کر لیے تھے صرف لاہور کا گھر رہ گیا تھا‘ یہ گھر ہمارے نانا چودھری ظہور الٰہی نے بنانا شروع کیا تھا لیکن مکمل ہونے سے قبل ہی ....مزید پڑھئے‎