ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

الرکبان پناہ گزین کیمپ پرخوف کے سائے، امریکی خلاء اسد رجیم پرکرے گی

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

دمشق(این این آئی)شام میں امریکی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد امریکی فوج کی زیرنگرانی علاقوں میں اسد رجیم کے داخلے کے خدشات ہیں، دوسری جانب شامی اپوزیشن نے امریکی انخلاء کے اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انخلاء سے پیدا ہونے والا خلاء اسد رجیم پْر کرے گی۔اگرچہ شام میں امریکی فوج التنف ملٹری بیس اور اس سے ملحقہ علاقہ 55 تک محدود رہی ہے۔

اس علاقے کی ایک طرف سرحد اردن اور دوسری طرف عراق سے ملتی ہے۔ یہاں ایک شامی پناہ گزین کیمپ الرکبان بھی قائم ہے۔ اس کیمپ کی نگرانی امریکی فوج کی معاونت سے شامی اپوزیشن کے پاس رہی ہے مگر اب حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد الرکبان کیمپ میں پناہ گزینوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ الرکبان کے مکینوں پرخوف اور دہشت کے سائے ہیں۔الرکبان کے شہریوں نے عرب ٹی وی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں امریکی عسکری مشیریوں?کی موجودگی اسد رجیم کی عدم مداخلت کی ضمانت تھی۔ یہاں سے امریکی فوج کے نکلنے کا مطلب یہاں پر اسد رجیم کو داخل ہونے کا موقع دینا ہے۔مقامی نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اسد رجیم الرکبان میں گھس کر گرفتاریاں کرے گی اور شامی اپوزیشن کے حامیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔انہیں جیلوں میں ڈالر کر تشدد کا نشانے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ اسد رجیم الرکبان کے نوجوانوں کو فوج میں جبری طورپر بھرتی کرسکتی ہے۔شامی اپوزیشن کے ایک ذریعے نے بتایا کہ امریکی فوج کے انخلاء سے علاقے میں ایک نیا المیہ رونما ہوسکتا ہے۔اپوزیشن کے حامی کرنل مہند الطلاع نے العربیہ ڈات نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکی فوج کی طرف سے انخلاء کا ایک زبانی پیغام ملا ہے۔ ان کاکہنا تھاکہ فی الحال امریکی فوج نے واپس کا سفرشروع نہیں کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…