ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

انڈونیشیا میں تباہ کن سونامی سے 80 افراد ہلاک 600سے زائد زخمی

datetime 23  دسمبر‬‮  2018 |

جکارتہ (این این آئی)انڈونیشیا میں سونامی کے سبب سْندا آبنائے کے سواحل پانی کی زد میں آ گئے جس میں کم از کم 80افراد ہلاک اور تقریبا چھ سو زخمی ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ ہفتہ کو آنے والی سونامی میں سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سونامی کی وجہ کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے سبب سمندر کے اندر مٹی کے تودے گرنا ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے شب کو آنے والی سونامی میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ۔زیادہ تر ہلاکتیں پینڈگلینگ، جنوبی لامپنگ اور سیرانگ علاقوں میں ہوئی ہیں۔ سونامی کی زد میں آنے والے علاقوں میں مغربی جاوا کا معروف سیاحتی ساحل تانجنگ لیسنگ بھی شامل ہے۔سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں اونچی اونچی لہریں ریزارٹ کے اس مقام سے ٹکراتی نظر آئی ہیں جہاں معروف بینڈ سیونٹین اپنا پروگرام پیش کررہا تھا۔ایمرجنسی سروسز کے حکام سونامی کے آنے کی وجوہات کی جانچ کررہے ہیں۔ بظاہر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سْندا آبنائے میں انک کراکاٹوا جزیرے کے آتش فشاں پھٹنے کے سبب سمندر میں سونامی پیدا ہوئی ہے۔آتش فشاں کے مطالعے کی ماہر جیس فینکس نے بتایا کہ جب آتش فشاں پھٹتا ہے تو گرم لاوا زمین سے ابل پڑتا ہے جو کہ زیر زمین ٹھنڈی چٹانوں کو بھی توڑ پھوڑ کر نکل پڑتا ہے اور یہ لینڈسلائڈ کا موجب بنتا ہے۔انڈونیشیا کی ارضیاتی ایجنسی نے کہا کہ آتش فشاں دو منٹ اور 12 سیکنڈ کے لیے پھٹا جس کے سبب پہاڑ پر راکھ کا بادل اٹھا جو 400 میٹر کی بلندی تک گیا۔انڈونیشیا ایسے علاقے میں آباد ہے جہاں مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کا خطرہ بنا رہتا ہے اور بحر الکاہل کے اس علاقے کو رنگ آف فائر یعنی آتشی انگشتری کہتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…