ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

انڈونیشیا میں تباہ کن سونامی سے 80 افراد ہلاک 600سے زائد زخمی

datetime 23  دسمبر‬‮  2018 |

جکارتہ (این این آئی)انڈونیشیا میں سونامی کے سبب سْندا آبنائے کے سواحل پانی کی زد میں آ گئے جس میں کم از کم 80افراد ہلاک اور تقریبا چھ سو زخمی ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ ہفتہ کو آنے والی سونامی میں سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سونامی کی وجہ کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے سبب سمندر کے اندر مٹی کے تودے گرنا ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے شب کو آنے والی سونامی میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ۔زیادہ تر ہلاکتیں پینڈگلینگ، جنوبی لامپنگ اور سیرانگ علاقوں میں ہوئی ہیں۔ سونامی کی زد میں آنے والے علاقوں میں مغربی جاوا کا معروف سیاحتی ساحل تانجنگ لیسنگ بھی شامل ہے۔سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیج میں اونچی اونچی لہریں ریزارٹ کے اس مقام سے ٹکراتی نظر آئی ہیں جہاں معروف بینڈ سیونٹین اپنا پروگرام پیش کررہا تھا۔ایمرجنسی سروسز کے حکام سونامی کے آنے کی وجوہات کی جانچ کررہے ہیں۔ بظاہر یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سْندا آبنائے میں انک کراکاٹوا جزیرے کے آتش فشاں پھٹنے کے سبب سمندر میں سونامی پیدا ہوئی ہے۔آتش فشاں کے مطالعے کی ماہر جیس فینکس نے بتایا کہ جب آتش فشاں پھٹتا ہے تو گرم لاوا زمین سے ابل پڑتا ہے جو کہ زیر زمین ٹھنڈی چٹانوں کو بھی توڑ پھوڑ کر نکل پڑتا ہے اور یہ لینڈسلائڈ کا موجب بنتا ہے۔انڈونیشیا کی ارضیاتی ایجنسی نے کہا کہ آتش فشاں دو منٹ اور 12 سیکنڈ کے لیے پھٹا جس کے سبب پہاڑ پر راکھ کا بادل اٹھا جو 400 میٹر کی بلندی تک گیا۔انڈونیشیا ایسے علاقے میں آباد ہے جہاں مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے پھٹنے کا خطرہ بنا رہتا ہے اور بحر الکاہل کے اس علاقے کو رنگ آف فائر یعنی آتشی انگشتری کہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…