ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی شہریوں کو دھوکہ دے کر ڈالر کمانے والا جعلی کال سنٹر پکڑا گیا ،دھوکے سے یومیہ 50ہزار ڈالر کمائے جاتے تھے ، 126 افراد گرفتار ،حیرت انگیز انکشافات

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی( آن لائن ) بھارتی پولیس نے امریکی شہریوں کو دھوکا دے کر یومیہ 50 ہزار ڈالر کمانے والے مبینہ جعلی کال سینٹر کے لیے کام کرنے والے 126 افراد کو گرفتار کرلیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان کو دہلی سے باہر نوئڈا سے گرفتار کیا گیا،

یہ ملزمان امریکی شہریوں کو ان کے سوشل سیکیورٹی نمبرز میں مسائل بتا کر انہیں ٹھیک کرنے کی رقم لیتے تھے۔نوئڈا پولیس کے عہدیدار اجے پال شرما کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جانب سے ایک اور اسکیم کا بتایا گیا کہ یہ ٹیکس مجرموں کو ان کے معاملات طے کرانے کے لیے رقم کی ادائیگی کا کہتے تھے۔اس حوالے سے ایک ریکارڈنگ میں ایک کالر سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ آپ کے وارنٹ میری میز پر ہیں اور اگر اس معاملے کو حل نہیں کیا گیا تو ہم آپ کے اکانٹس منجمد کرکے آپ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیں گے۔بھارتی لہجے میں انگریزی زبان میں انہیں اس شخص سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ آیا وہ عدالت میں امریکی ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) سے مقابلہ کرے اور ٹیکس نادہندہ کے طور پر 75 ہزار ڈالر جرمانے کا سامنا کریں یا فوری طور پر ادائیگی کر کے عدالت کے باہر معاملات طے کرے۔اجے پال شرما کا کہنا تھا کہ مختلف لوگ ان کی کال کا جواب دیتے تھے اور جال میں پھنس جاتے تھے۔علاوہ ازیں مقامی انتظامیہ نے امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سے بھی رابطہ کیا اور اس کیس کی تفصیلات کا تبادلہ کیا۔واضح رہے کہ یہ کال سینٹر 3 سال سے کام کر رہا تھا اور گرفتاری کے موقع پر 300 کے قریب کمپیوٹرز ضبط کیے گئے۔واضح رہے کہ سال 2000 کے آغاز سے بھارت عالمی کال سینٹر کا مرکز ہے، جہاں غیر ملکی اداروں نے تعلیم یافتہ اور انگریزی بولنے والی افرادی قوت کو کسمٹر فون انکوائریز کا جواب دینے کی ملازمت دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…