ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے افغانستان سے فوج کے انخلا کی منصوبہ بندی شروع کردی

datetime 21  دسمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی فوج نے شام کے بعد افغانستان سے بھی فوجیوں کے انخلا کی منصوبہ بندی شروع کردی اور اس حوالے سے احکامات بھی موصول ہوچکے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ملٹری حکام نے بتایا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے

انخلا کا عمل آئندہ چند ماہ میں شروع ہوگا۔ اور ابتدائی طور پر تقریباً 7 ہزار فوجیوں کو واپس امریکہ بلایا جائے گا۔افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی شام سے فوج کے مکمل انخلا کا اعلان کیا تھا۔افغانستان سے انخلا کا فوج کا فیصلہ ہی وزیر دفاع جیمز میٹس کے استعفے کا سبب بنا اور انہوں نے امریکی صدر کو لکھے گئے اپنے خط میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے لکھا کہ آپ کو حق ہے کہ آپ اپنی سوچ سے ہم آہنگ شخص کو وزیر دفاع بنائیں، لہذا بہتر یہی ہوگا کہ میں وزیر دفاع کا عہدہ چھوڑ دوں۔وزارت دفاع کے کئی حکام نے سی این این کو بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے فوج کا انخلا چاہتے ہیں اور وہ جنوری یا فروری کے آغاز میں اسٹیٹ آف دی یونین اسپیچ (سینیٹ سے صدارتی خطاب) کے دوران افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔ افغانستان میں اس وقت تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جس میں سے زیادہ تر نیٹو مشن کے تحت مقامی فوج کی تربیت کیلئے مامور ہیں، امریکہ نیٹو ممالک کا رکن ہے اور اسے فوج کے انخلا کے کسی بھی فیصلے سے متعلق نیٹو سپورٹ مشن کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فوج کے افغانستان کے قیام کے مخالف ہیں جس کا وہ کئی بار اظہار کرچکے ہیں۔یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے تعاون سے افغان امن عمل کے سلسلے میں ابوظہبی میں طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے، جس میں سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات کے وفد نے بھی شرکت کی اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے بذریعہ خط وزیراعظم عمران خان سے افغان امن عمل اور طالبان کو مذاکرات کی ٹیبل پر لانے کی اپیل کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…