ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی ٗ جیل میں قید 11 خواتین نے جیل کو ہی اپنا گھر سمجھ لیا ٗ باہر جانے سے انکار ،حیرت انگیز وجہ سامنے آگئی

datetime 13  دسمبر‬‮  2018 |

دبئی (این این آئی)دبئی کی جیل میں قید چند خواتین کو سلاخوں کے پیچھے گزرا وقت اس قدر بھا گیا کہ انہوں نے جیل کو ہی اپنا گھر سمجھ لیا اور باہر جانے سے انکار کردیا۔متحدہ عرب امارات کے میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی کی جیل میں قید خواتین میں 11 کی سزائیں پوری ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں یہاں سے جانے سے انکاری ہیں۔دبئی کی خواتین جیل کی ڈائریکٹر کرنل جمیلہ خلیفہ الزابی نے کہا کہ

مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ان 11 خواتین قیدیوں کو جیل عملے کے اچھے برتاؤ اور میسر سہولیات اس قدر پسند آئیں کہ انہوں نے یہاں سے جانے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ دبئی کی جیل میں خواتین کو اچھی غذا اور طبی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت مند زندگی کی طرف لوٹانے کے لیے خصوصی پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے، وہ قید کے دوران اپنے اہلخانہ بالخصوص اپنے بچوں سے رابطے میں بھی رہ سکتی ہیں جبکہ انہیں پرامن ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ایک عرب ملک کی خاتون قیدی نے، جو اپنی سزا پوری کر چکی ہیں کہا کہ انہوں نے قید کی زندگی خوش رہ کر گزاری اور انہیں ایسا ماحول فراہم کیا گیا جو انہیں اپنے آبائی ملک میں بھی میسر نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ قید کے دوران ان سے نہ صرف اچھا سلوک کیا گیا بلکہ ان کی نئے ہنر سیکھنے اور اپنے مشاغل پورے کرنے، جیسے مصوری کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ایک اور غیر ملکی خاتون قیدی نے کہا کہ خواتین کی جیل عقوبت خانے سے کہیں زیادہ ہے جہاں ایک بڑی لائبریری، کھیلوں کے لیے ہال، ڈرائینگ روم، کئی میچز کے لیے بڑا ایریا اور دیگر سہولیات موجود ہیں جن سے قیدی ہر وقت فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…