ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

البانیا میں یونیورسٹی کے طلبہ کا فیسوں میں اضافے پر احتجاج : سینکڑوں دانشور بھی شامل

datetime 13  دسمبر‬‮  2018 |

ترانا (این این آئی)البانیا میں یونیورسٹی کے طلبہ نے فیسوں میں کمی اور تعلیم کے شعبے کیلئے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ حصہ مختص کرنے کے لیے شدید احتجاج کیا جس میں سیکڑوں دانش ور بھی شامل ہوگئے جبکہ مذاکرات کے لیے وزیراعظم کی پیش کش کو بھی مسترد کردیا۔

میڈیارپورٹ کے مطابق طلبہ کا احتجاج اب تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کا آغاز گزشتہ ہفتے ہوا تھا۔مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ طلبہ کی یہ تحریک 1990 میں سابق کمیونسٹ حکمراں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد طلبہ کی سب سے بڑی سرگرمی ہے۔شکودرا یونیورسٹی کے 21 سالہ طالب علم الیر کیوری کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات مذاکرات کے قابل نہیں بلکہ حکومت اس کو قبول کرے تو ہم اپنی تحریک کو ختم کریں گے’۔خیال رہے کہ البانیا میں سرکاری جامعات کی فیس 160 سے 2 ہزار 560 یورو (182 ڈالر سے 2 ہزار 916 ڈالر) تک سالانہ ہے جبکہ تنخواہ کی شرح کم ازکم 350 یورو ہے۔طلبہ کا مطالبہ ہے کہ تعلیم کے لیے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کیا جائے، جامعات میں زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور اہل اور قابل ترین پروفیسرز تعینات کیے جائیں۔البانیہ کے طلبہ کو اس وقت مزید حوصلہ ملا جب سیکڑوں دانش وروں نے ان کا ساتھ دیا اورمحکمہ تعلیم کے منصوبوں کے خلاف اور ‘فیسیں کم کرو’ کے نعرے لگائے اور وزارت پر انڈے بھی پھینکے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کام اور تعلیم چاہتے ہیں اور ہم متحد ہیں لیکن سیاست دان ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں’۔ایک طالب علم اربین مالی کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج سیاسی نہیں ہے، ہمارے مطالبات صرف معاشی ہیں۔طلبہ نے البانیا کے وزیراعظم ایدی راما کی جانب سے مذاکرات کے لیے کی گئی پیش کو بھی مسترد کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…