ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

برلن میں اسلام سے متعلق کانفرنس میں ’’ سور‘‘ کا گوشت پیش کردیا گیا ، تنازع کھڑا ہوگیا 

datetime 1  دسمبر‬‮  2018 |

برلن (آن لائن) جرمنی کے شہر برلن میں اسلام سے متعلق کانفرنس میں سور کے گوشت سے تیار کردہ ‘سوسیج’ پیش کرنے پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ رواں ہفتے اسلامک کانفرنس کے دوران کھانے میں ‘سوسیج’ رکھے جانے پر جرمنی کی وزارتِ داخلہ نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ‘برلن میں منعقدہ جرمن اسلام کانفرنس میں کھانے کا انتخاب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔تاہم بیان میں لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونے پر ان سے معافی مانگی گئی۔کانفرنس کا انعقاد جرمنی کے وزیر داخلہ ہورسٹ سیہوفر نے کیا تھا، جنہوں نے مارچ میں کہا تھا کہ ‘اسلام کا تعلق جرمنی سے نہیں ہے۔‘مقامی میڈیا کے مطابق کانفرنس کے شرکا کی بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی، جنہیں اسلامی قوانین کے مطابق سور کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔جرمنی کے صحافی ٹینسی اوڑدمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہورسٹ سیہوفر کی وزارت اس واقعے سے کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ مسلمان کی تھوڑی عزت کرنے کی ضرورت ہے جو سور نہیں کھاتے۔‘رپورٹ میں کہا گیا کہ کانفرنس کے آغاز پر وزیر داخلہ سیہوفر کا کہنا تھا کہ ‘وہ جرمن اسلام دیکھنا چاہتے ہیں۔‘تاہم ٹینسی اوڑدمر نے کہا کہ وزیر داخلہ کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے’چینی دکان میں ہاتھی‘ اور وہ جرمنی کے مسلمانوں کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں کر پائیں گے۔اپنے ردعمل میں جرمن وزارت داخلہ نے کہا کہ کانفرنس کے دوران کھانے میں کل 13 پکوان تھے جن میں حلال سبزیاں، گوشت اور مچھلی شامل تھیں جبکہ بوفے میں رکھے گئے پکوانوں کے بارے میں واضح الفاظ میں لکھا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…