ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اجمل قصاب بھارتی شہری نکلا،بھارتی خبر رساں ادارے کی تہلکہ خیز خبر پر بھارتی حکام سٹپٹا کر رہ گئے بھارت نے اس کردارکو پھانسی دے کر دفنا تو دیا لیکن بھارتی ہونے کے ثبوت دفن کرنا بھول گیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(آئی این پی)اجمل قصاب کے پاکستانی ہونے کا بھارتی دعوی ڈھونگ نکلا، ممبئی حملوں کا مرکزی کردار بھارتی شہری تھا، اجمل قصاب کا بھارتی ڈومیسائل سامنے آ گیا۔اجمل قصاب پاکستانی نہیں بھارت کی ریاست یو پی کا رہائشی نکلا، اصل ڈومیسائل منظرِ عام پر آنے کے بعد بھارتی حکام سٹپٹا گئے۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت نے اجمل قصاب نامی کردار کو 6 سال پہلے پھانسی دے کر دفن تو کر دیا

لیکن اس کے بھارتی ہونے کے ثبوت دفن کرنا بھول گیا۔سچ سامنے آنے پر بھارتی حکومت نے فوری طور پر اجمل قصاب کا ڈومیسائل منسوخ کر کے دستاویزات جعلی قرار دے دیے اور سچ سامنے لانے والے متعلقہ ریونیو افسر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔ممبئی حملوں کے مرکزی کردار کی حقیقت کھلنے پر بھارتی میڈیا کو بھی سانپ سونگھ گیا، ہر واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے والے بھارتی میڈیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی۔معلوم ہوا ہے کہ اجمل قصاب کا ڈومیسائل بننے سے پہلے 20 کے قریب مختلف دستاویزات بھی بنے، کیوں کہ بھارت میں ڈومیسائل بنوانے کے لیے 11 دستاویزات درکار ہوتے ہیں، جن میں شناختی کارڈ، ووٹر آئی ڈی، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، راشن کارڈ، بجلی کا بل، گھر اور پانی کے ٹیکس کا بل، بینک کی پاس بک اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔خیال رہے کہ بھارت ممبئی حملوں کے بعد سے اجمل قصاب کو ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ اور پاکستانی شہری بتاتا رہا ہے، تاہم حملوں کے دس سال بعد آخر کار سچ سامنے آ گیا اور وہی ماسٹر مائنڈ اتر پردیش کا نکل آیا۔بھارتی میڈیا میں دکھائے جانے والے ڈومیسائل کے مطابق اجمل قصاب یو پی کے ضلع اورایا کی تحصیل بدھونا سے تعلق رکھتا تھا،

ڈومیسائل سرٹیفکیٹ وہیں سے جاری ہوا۔ ڈومیسائل سامنے آنے کے بعد یہ سوال اٹھ گیا ہے کہ اتنے سارے دستاویزات کوئی باہر سے آ کر کیسے بنوا سکتا ہے۔یاد رہے کہ ممبئی حملوں کے بعد منظرِ عام پر آنے والی اجمل قصاب کی ویڈیو نے بھی کئی سوال اٹھائے تھے، اجمل قصاب کا لہجہ کسی صورت پاکستانی پنجاب کے رہنے والے کا نہیں تھا۔بھارت نے اجمل قصاب نامی کردار کو 6 سال پہلے پھانسی دے کر دفن تو کر دیا لیکن اس کے بھارتی ہونے کے ثبوت دفن کرنا بھول گیا تھا۔ پولیس افسر ہیمنت کرکرے کی پر اسرار موت بھی کئی سوال اٹھا رہی ہے کہ کیا بھارت اپنے ہی لوگوں کا قاتل ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…