ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اقوام متحدہ نے یمن کے متحارب فریقین میں جنگ بندی کی دستاویز پیش کردی

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

صنعاء(این این آئی)یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھ نے نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن میں جاری جنگ روکنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں۔ ان تجاویز میں دونوں فریقوں پر ایک دوسرے پر حملے روکنے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ

یمن کا ساحلی شہر الحدیدہ کشیدگی کا مرکز ہے اور وہاں پر جاری لڑائی پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یمن میں انسانی اور سیاسی صورت حال کا بھی احوال بیان کیا۔ گریویتھ نے توقع ظاہر کی کہ یمن میں متحارب فریقین ان کی پیش کردہ امن تجاویز کو قبول کریں اورجنگ بندی کی مساعی کا مثبت جواب دیں گے۔ اقوام متحدہ کے مندوب نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کے جنگ بندی کی طرف واپس آنے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔یو این مندوب کا کہنا تھا کہ یمن کے لیے آنے والے ہفتے بہت اہم ہیں۔ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں رواں ماہ کے آخر پر ہونے والے مشاورتی اجلاس میں یمن میں جنگ بندی کے حوالے سے اہم پیش رفت ممکن ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارک لوکوک نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یمن اس وقت بدترین غذائی بحران سے گزر رہا ہے۔ خوراک کی قلت کے اعتبار سے یمن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اگر جنگ سے متاثرہ علاقوں میں فوری خوراک مہیا نہیں کی جاتی تو اس کے نتیجے میں یمن ایک نئے انسانی المیے سے دوچار ہوسکتا ہے۔عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یمنی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 235 فی صد تک کم ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں 80 لاکھ خاندان فوری امداد کے منتظر ہیں۔ عالمی ادارے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ عالمی امدادی اداروں

کی طرف سے دی جانے والی امداد سعودی عرب اور اومان کے راستے یمن پہنچ رہی ہے۔ ڈیوڈ سیلی کا کہنا تھا کہ 1 کروڑ 20 لاکھ متاثرین میں سے 80 لاکھ افراد تک امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن میں شہری امور کی مندوبہ رشا جرھم نے کہا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے کئی طرح کے مسائل پیدا کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی بچھائی گئی بارود سرنگیں شہریوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں کیونکہ

اب تک سیکڑوں افراد ان بارودی سرنگیں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے یمن میں حوثیوں کو بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے ہر دوسرا شہری تشدد کا شکار ہے۔ بچوں کو جنگ میں? جھونکا جا رہا ہے، ان پر تشدد معمول بن گیا ہے اور اب بچیوں کو بھی اغواء کیاجا رہا ہے۔اس موقع پر کویت کے سلامتی کونسل میں مندوب منصور العتیبی نے کہا کہ حوثی باغی ملک میں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…