ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کی میکسیکو کی سرحد پرتارکین وطن کو گولی مارنے کی دھمکی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پڑوسی ملک میکسیکو کی سرحد سے غیرقانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والے تارکین وطن کر سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے اورکہاہے کہ میکسیکو کی سرحد سے دراندازی کرتے ہوئے امریکی فوج پر سنگ باری کرنے والوں پر گولیاں چلائی جائیں گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائیٹ ہاؤس میں صحافیوں سے

بات کرتے ہوئےصدر ٹرمپ نے کہا کہ میکسیکو کی سرحد سے امریکا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد امریکی بارڈر پولیس پروحشیانہ حملے کرتے ہیں۔ ہمیں یہ حملے ہرگز قبول نہیں۔ اگر تارکین وطن نے پرتشدد حملے جاری رکھے تو ہمارے سپاہی ان پر فائرنگ کریں گے۔ میں نے فوجیوں سے کہا کہ سرحد پار سے مداخلت کرنے والوں کی سنگ باری بھی بندوق سے فائرنگ کرنے کے مترادف ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ میکسیکو سے ہمارے ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کو کیمپوں میں ڈالا جائے گا جہاں سے انہیں واپس ان کے ملک میں دھکیلا جائے گا۔قبل ازیں صدر ٹرمپ امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کا ملک دنیا کا واحد ملک ہیں، جہاں کوئی شخص آتا ہے اور اس کا یہاں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ بچہ امریکی شہری ہوتا ہے۔امریکی صدر کا یہ دعویٰ اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنی سرزمین پر پیدا ہونے والے کسی بچے کو شہریت دینے کے اعتبار سے امریکا دنیا کا واحد ملک نہیں بلکہ ایسے متعدد ممالک ہیں۔ قانونِ سرزمین کے تحت اپنی سرحدی حدود کے اندر پیدا ہونے والے کسی بچے کو غیرمشروط اور غیرمحدود طور پر شہریت کا حق دیا جاتا ہے۔امریکی دستور کی چودھویں ترمیم کی ایک ضمنی شقت میں یہ شہریت کا حق امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو تفویض کیا گیا ہے۔یہ بات اہم ہے کہ حقِ سرزمین کا قانون، حقِ خون یعنی شہریت کے حامل والدین سے بچے کو شہریت منتقل ہونے کے قانون سے مختلف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…