جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اردن میں سیلاب : بحیرہ مردار میں اسکول بچوں سمیت18 افراد ہلاک ، 44 لاپتہ

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

عمان (این این آئی)اردن میں شدید بارشوں کے نتیجے میں سیلاب آگیا ہے اور بحیرہ مردار ( البحر المیت) کی وادی میں 18 افراد ڈوب کر ہلاک ، بائیس زخمی اور چوالیس لاپتا ہوگئے ہیں۔ ہلاک اور لاپتا ہونے والوں میں زیادہ تر اسکول کے بچے ہیں۔اردنی حکومت نے لاپتا44طلبہ اور اساتذہ کی تلاش کے لیے بحیرہ مردار کے علاقے میں ہیلی کاپٹر روانہ کردیے ہیں۔اردن کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا ہے۔

اسکول کے بچے اور ان کے اساتذہ بحیرہ مردار کے علاقے میں سیر کے لیے گئے تھے،اس دوران میں طوفانی سیلاب آگیا اور وہ اس میں بہ گئے ہیں۔محکمے نے بحیرہ مردار کے نزدیک واقع علاقے زارا میں سیلاب کی نذر ہونے والے دس طلبہ کو بچا نکالنے کی تصدیق کی ہے۔ اردن کے وزیراعظم عمرالرزاز خود امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں۔وہ محکمہ شہری دفاع کے ڈائریکٹر جنرل سے رابطے میں ہیں اور انھوں نے ان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں متاثرہ علاقے میں امدادی سرگرمیوں کی تفصیل معلوم کی ہے۔اردن کے وزیراعظم عمرالرزاز سیلاب سے متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع حکام سے گفتگو کررہے ہیں۔انھوں نے وزیر داخلہ اور بلدیات اور تعمیرات ومکانات کے وزیر سے بھی سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے سے متعلق ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقے میں طلبہ ، اساتذہ اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سرکاری وسائل مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔انھوں نے متعلقہ اداروں کو متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان کارروائیوں کے بعد گیارہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ان میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…