ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ترکی کے تفتیش کاروں نے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات مکمل کر لیں،سی سی ٹی وی فوٹیج نے سب کھول کر رکھ دیا، انتہائی ہوشربا حقائق سامنے آ گئے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

استنبول انقرہ (آن لائن) ترک صدر طیب اردگان سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات سے متعلق اپنی جماعت کے رفقاء کو آج اعتماد میں لیں گے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے تفتیش کاروں نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔تفتیش کاروں نے اپنی تحقیقات سے متعلق مفصل رپورٹ ترکی صدر کو بھیج دی تھی۔ رپورٹ موصول ہونے پر

صدر طیب اردگان کل اپنی کابینہ اور جماعت کے اراکین کو تحقیقات سے آگاہ کریں گے۔ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے اب تک کی تحقیقات سے اپنی جماعت کے رفقاء4 کو اعتماد لیں گے بعد ازاں میڈیا کے ذریعے یہ معلومات پوری دنیا کو فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ صحافی کے قتل کی تحقیقات کے لیے کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا اور ملکی قوانین کے تحت شفاف تحقیقات کو مکمل کرلیا ہے جس میں ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں۔صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ سعودی حکام کا اولین دعویٰ تھا کہ صحافی کچھ دیر بعد واپس چلے گئے تھے لیکن ترکی کے حکام نے سعودی موقف کو رد کردیا تھا۔ترک حکام کا دعویٰ تھا کہ صحافی کو قونصل خانے میں ہی قتل کرکے لاش قریبی جنگل یا کھیت میں چھپادی گئی ہے۔ لاش کی برآمدگی کے لیے تلاش کا کام بھی شروع کیا گیا تھا تاہم میڈیا کو اپ ڈیٹس نہیں دی گئی تھیں۔ترکی کے تفتیش کاروں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ 2 اکتوبر کو ہی 10 سے زائد سعودی حکام چارٹرڈ طیارے سے استنبول پہنچے تھے اور ان تمام افراد کے سعودی قونصل میں داخلے اور کام مکمل کرنے کے بعد واپس جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں۔ترک تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ یہی افراد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں ان میں سے

ایک شخص فرانزک لیب کا ماہر ہے جب کہ باقی افراد یا تو انٹیلی جنس کے اہلکار ہیں یا پھر سعودی ولی عہد کے محافظ تھے۔ترکی کے تفتیش کاروں نے صحافی کی گمشدگی کے بعد سعودی قونصل خانے کے پہلی بار معائنے کے بعد قتل کے حوالے سے آڈیو اور ویڈیو شواہد بھی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور انہی شواہد کی بناء4 پر تفتیش کو آگیبڑھایا گیا تھا۔واضح رہے سعودی عرب کا بھی عالمی دباؤکے بعد جمال خاشقجی کی استنبول کے سعودی قونصل خانے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صحافی ہاتھا پائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم لاش کے حوالے سے سعودی حکام نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…