جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

داعش کے ہاتھوں اغواء 130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

دمشق(این این آئی)چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر البحرہ پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق البحرہ کیمپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول میں ہے مگر دوسری جانب ڈیموکریٹک فورسز

کے ذرائع کا کہنا تھا کہ داعش کی جانب سیدیر الزور بالخصوص البحرہ کیمپ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی عسکری کونسل کی ترجمان لیلویٰ العبداللہ نے بتایا کہ داعش کے ساتھ جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ داعش کے حملوں میں ڈیموکریٹک فورسز کے متعدد اہلکار ہلکا ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ داعش نے حملے کے دوران ایک سو تیس خاندان اغواء کرلیے تھے۔ ان کا مستقبل نامعلوم ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں ان 130 خاندانوں کے انجام کے حوالے سے سخت خوف اور تشویش لاحق ہے کیونکہ ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ ان کی بازیابی اور دہشت گردوں سے رہائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نیاس بات کی سختی سے تردید کی کہ ان خاندانوں کو دیرالزور کی عسکری کونسل نییرغمال بنایا ہے۔لیلویٰ عبداللہ نے بتایا کہ داعش نے جن لوگوں کو یرغمال بنایا ہے ان میں داعش کے جنگجوؤں کے خاندان اور ان کی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ڈیموکریٹک فورسز کا ان پر حملے کا کوئی جواز نہیں۔ اس طرح کیالزامات بے بنیاد ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیر الزور میں داعش کو شکست دینا آسان نہیں۔ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ دہشت گرد روزانہ سخت حملے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان کوئی رابطہ نہیں اور نہ داعش کے خلاف لڑائی میں انہیں کسی دوسرے گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…