جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

داعش کے ہاتھوں اغواء 130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

دمشق(این این آئی)چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر البحرہ پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق البحرہ کیمپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول میں ہے مگر دوسری جانب ڈیموکریٹک فورسز

کے ذرائع کا کہنا تھا کہ داعش کی جانب سیدیر الزور بالخصوص البحرہ کیمپ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی عسکری کونسل کی ترجمان لیلویٰ العبداللہ نے بتایا کہ داعش کے ساتھ جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ داعش کے حملوں میں ڈیموکریٹک فورسز کے متعدد اہلکار ہلکا ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ داعش نے حملے کے دوران ایک سو تیس خاندان اغواء کرلیے تھے۔ ان کا مستقبل نامعلوم ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں ان 130 خاندانوں کے انجام کے حوالے سے سخت خوف اور تشویش لاحق ہے کیونکہ ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ ان کی بازیابی اور دہشت گردوں سے رہائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نیاس بات کی سختی سے تردید کی کہ ان خاندانوں کو دیرالزور کی عسکری کونسل نییرغمال بنایا ہے۔لیلویٰ عبداللہ نے بتایا کہ داعش نے جن لوگوں کو یرغمال بنایا ہے ان میں داعش کے جنگجوؤں کے خاندان اور ان کی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ڈیموکریٹک فورسز کا ان پر حملے کا کوئی جواز نہیں۔ اس طرح کیالزامات بے بنیاد ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیر الزور میں داعش کو شکست دینا آسان نہیں۔ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ دہشت گرد روزانہ سخت حملے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان کوئی رابطہ نہیں اور نہ داعش کے خلاف لڑائی میں انہیں کسی دوسرے گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…