جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف پر امریکی دباؤ کا مقصد کیا ہے؟ امریکہ افغانستان سے متعلق پاکستان سے کیا کروانا چاہتاہے؟بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 11  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(آئی این پی) بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پر امریکی دباؤ کا مقصد افغان اہداف کے لیے پاکستان پر زور دینا ہے،افغانستان کے ہمسائے میں جوہری صلاحیت کے حامل ملک کے ناکام ریاست بننے کے خطے پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،

پاکستان کی نئی حکومت کو ادائیگیوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے فوری طور پر سرمائے کی ضرورت ہو گی۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہے اور یہ امریکہ یہ بھی نہیں چاہے کہ افغانستان کے پڑوس میں ایک جوہری ملک کے ناکام ریاست بننے کے خطے پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی نئی حکومت کے لیے، جو آئندہ چند دنوں میں اقتدار سنبھالنے والی ہے، ایک بڑا مسئلہ زرمبادلہ کی گرتی ہوئی سطح ہے۔ اسے اپنی ادائیگیوں میں توازن قائم رکھنے کے لیے فوری طور پر سرمائے کی ضرورت ہو گی۔ میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان مالیاتی بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانے کا سوچ رہا ہے اور وہ اس سے 12 ارب ڈالر کے پیکیج کی درخواست کرے گا۔ جب کہ امریکی انتظامیہ آئی ایم ایف سے یہ کہہ چکی ہے کہ وہ پاکستان کو نیا پیکیج دینے سے گریز کرے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ رقم چین کا قرضہ ادا کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔دوسری جانب پاکستان کی نگران حکومت اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ چین کا قرضہ فوری طور پر واجب الادا نہیں ہے۔ اب امریکہ کے 16 سینیٹرز نے بھی امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو ان ملکوں کو بیل آٹ پیکیج دینے سے روکے جو چین کے قرضوں میں بندھے ہوئے ہیں اور جن کے پاس قرضوں کی ادائیگی کے لیے زرمبادلہ موجود نہیں ہے۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…