جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

والدین ہوشیار ،خبردار!ہر روز 9گھنٹے تک ویڈیو گیمز کھیلنے والا بچہ اپنی اس عادت سے کس خطرناک بیماری کا شکار ہوگیا؟انتہائی افسوسناک صورتحال

datetime 5  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کل کمپیوٹر اور موبائل پر گیمز کھیلنا معمول ہے ۔ایسے میں بچوں اور بڑوں کے روزمرہ کے امور شدید متاثر ہوتے ہیں وہیں ان  میں ذہنی بیماریاں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق نیووا ایکیجا شہر سے تعلق رکھنے والا 6 سالہ بچہ جان نیتھن کمپیوٹر گیمز کے جنون میں اس حد تک مبتلا تھا کہ روزانہ آٹھ سے 9 گھنٹے تک بیٹھا گیمز کھیلتا رہتا تھا۔ اس عادت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس کا عصبی نظام بری طرح متاثر ہوگیا۔

اب جسم کے مختلف اعضا خصوصاً آنکھوں اور ہونٹوں پر اس کے دماغ کا کنٹرول تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ اس بچے کی آنکھیں مسلسل اور بے اختیار جھپکتی رہتی ہیں جبکہ ہونٹوں کی حرکت بھی بے قابو ہے۔ چھ سال کی عمر میں ہی اس کے ہاتھ بوڑھے لوگوں کی طرح کانپنے لگے ہیں اور چلنے میں بھی اسے لڑکھڑاہٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جان کے والدین کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک ہفتے سے ان کے بچے کی یہ کیفیت ہے۔ وہ اسے ہسپتال لے کر گئے ہیں اور اس کے ٹیسٹ کروائے ہیں، ڈاکٹروں نے کچھ ادویات بھی دی ہیں، لیکن تاحال کوئی بہتری نظر نہیں آرہی۔ جان کے والد اپنے بیٹے کی حالت ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا میرا بیٹا ہمیشہ صحت مند رہا ہے، اسے کبھی کوئی بیماری نہیں تھی، لیکن دیکھئے اب اس کا کیا حال ہے۔ اس لئے آپ بھی اپنے بچوں کو ویڈیو گیمز سے دور رکھیں ورنہ خدانخواستہ آپ کے بچے بھی اس خوفناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں جو ساری زندگی کیلئے آپ کے بچوں اور خود آپ کی زندگی کا روگ بن سکتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…