منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی، بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سرعام سمگل ہونے لگا، تشویشناک خبر نے ہلچل مچا دی

datetime 10  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سر عام فروخت اور سمگل ہونے لگا، عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سر عام فروخت اور سمگل ہورہا ہے اور اس بات کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب کولکتہ میں پولیس نے یورینیم کے پیکٹوں سمیت 5افراد کو گرفتار کیا۔ اوپن مارکیٹ میں

اس جوہری مواد کی قیمت 3کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ یہ مواد نہ صرف جوہری ہتھیاروں، ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو کینسر کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے گرفتار افراد سے پیلے رنگ کے مواد سے بھرے پانچ پیکٹس کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ پیکٹوں کو جانچ پڑتال کیلئے ماہرین کو بھیج دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب جوائنٹ کمشنر کرائم برانچ پروین تھرپتی نے ایک بھارتی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان پیکٹس میں یورنیم موجود نہیں جبکہ میڈیا کے دیگر ذرائع کہتے ہیں کہ یہ یورینیم کا مادہ یا آئی او این ایکسینچ نامی مواد ہے جو یورینیم کی صفائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مواد نہ صرف جوہری ہتھیاروں، ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو کینسر کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جوہری مواد کے پیکٹوں کیساتھ گرفتار ہونیوالے افراد کو دل ہاؤس میں مینگولین میں رکھا گیا اور ان کی شناخت جاوید میانداد، ایس کے مغل، شاہ جہاں موندل، یونس بسواس اور بسنت سنہا کے نام سے ہوئی ہے۔ ۔پولیس نے گرفتار افراد سے پیلے رنگ کے مواد سے بھرے پانچ پیکٹس کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے،پولیس کے مطابق ملزمان سے محکمہ جنگلات میں بھرتی کے جعلی خطوط اور مارکس شیٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…