جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کیلئے بھارتی شہری کی انوکھی مہم،اُڑتے جہاز میں ایسا کام شروع کردیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 25  جون‬‮  2018 |

ممبئی(نیوزڈیسک) ایک بھارتی شہری نے فلائٹس کے دوران ایئر لائنز کا بچا ہوا کھانا جمع کرنا شروع کردیا ہے، جو وہ ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ممبئی کے رہائشی وشاب مہتامی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے فلائٹس کے دوران بچ جانے والا کھانا جمع کرنا شروع کیا۔مہتا نے لکھاکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں متعدد مرتبہ جہاز میں سفر کیا ہے،

چاہے یہ شوقیہ ہو، کاروباری مقاصد کے لیے ہو یا تفریحی غرض سے، لیکن چند ماہ قبل ہی مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ فلائٹس کے دوران پیش کیا جانے والا کھانا ضائع کردیا جاتا ہے یا کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔وشاب مہتا کے مطابق اس کی وجوہات کچھ یہ ہوسکتی ہیں: کچھ لوگ پہلی مرتبہ جہاز میں سفر کرنے کی بنا پر اتنے شرمیلے ہوتے ہیں کہ وہ انگریزی بولنے والے جہاز کے عملے کو جواب بھی نہیں دے سکتے، کچھ لوگوں کو جہاز کا کھانا پسند نہیں آتا، لہذا وہ تھوڑا سا کھا کر باقی چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کچھ کو اپنی صحت کا اتنا خیال ہوتا ہے کہ وہ جہاز میں پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایک دن مبمئی سے جے پور جاتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کھانا ضائع نہیں کریں گے بلکہ وہ فلائٹ میں سے سارا کھانا جمع کرکے ضرورت مندوں کو دیں گے۔وشاب مہتا نے لکھاکہ جیسے ہی عملے نے کھانا سرو کیا تو میں نے درخواست کی کہ مجھے ایک خالی بیگ دے دیا جائے تاکہ میں ذاتی طور پر بچا ہوا کھانا جمع کروں، جس پر عملے نے کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھے رہیں، جب ہم کھانے کی ٹرے واپس لینے آئیں گے تو بچا ہوا کھانا بیگ میں جمع کرلیں گے اور اس طرح فلائٹ کے اختتام پر تقریبا 70 برگر بن، 50 مکھن کی ٹکیاں اور 30 چاکلیٹس بیگ میں جمع ہوچکی تھیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ جمع کیا گیا کھانا ان لوگوں میں تقسیم کیا گیا جو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھاسکتے اور بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔وشاب مہتا نے اپنی پوسٹ میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کھانا ضائع ہونے سے بچائیں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…