جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے وہ 24ممالک جہاں جمہوریت زوال کا شکار ہے ،بھارت کے علاوہ کس طاقتور ملک کا نام فہرست میں شامل ہے،حیران کن انکشاف

datetime 23  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کی موجودہ آبادی کا ایک تہائی حصہ ان ممالک میں رہتا ہے، جہاں جمہوریت زوال کا شکار ہے۔ جمہوری ماحول اور اقتدار کے لحاظ سے تنزلی کا سامنا کرنے والے ان ممالک میں امریکا، روس، بھارت، ترکی، برازیل اور پولینڈ نمایاں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیاسی محققین نے جمہوری عمل کی صورت حال اور ترویج سے متعلقہ موضوعات کا احاطہ کرنے والے جریدے ڈیموکریٹائزیشن میں اپنی ایک نئی تحقیق کے نتائج پیش کرتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ برس دنیا کی آبادی کا زیادہ تر حصہ جمہوری معاشروں میں ہی رہتا تھا۔

تاہم 2017ء میں دنیا کے 24 ممالک ایسے بھی تھے، جن کی مجموعی آبادی 2.6 ارب بنتی ہے لیکن جہاں جمہوریت کا سفر آگے کے بجائے پیچھے کی طرف جاری تھا۔ان ماہرین کے مطابق ان دو درجن ممالک میں جمہوریت کو جس تنزلی کا سامنا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں جمہوری اقتدار بتدریج خود پسندانہ طرز حکومت میں بدلتی جا رہی ہیں اور مقتدر سیاستدانوں کی طرف سے اختیارات اور طاقت کے استعمال کی نگرانی کا عمل کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ یہ عمل خاص کر دنیا کے ان خطوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں جمہوریت کوئی نیا یا مقابلتاًکم عمر طرز حکومت بھی نہیں ہے۔ان ممالک میں خاص کر مغربی اور مشرقی یورپی ممالک اور امریکا اور بھارت جیسی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ کے مصنفین کی ٹیم کی سربراہ اور سویڈن کی گوتھن برگ یونیورسٹی کی ماہر سیاسیات آنا لْوہرمان نے بتایاکہ ان جمہوری معاشروں میں ذرائع ابلاغ کی خود مختاری، آزادی رائے، آزادی اظہار اور قانون کی حکمرانی ایسے شعبے ہیں، جنہیں واضح طور پر زوال کا سامنا ہے۔آنا لْوہرمان کے بقول اس حقیقت کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری انتخابی عمل کی اہمیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک میں عام شہری جمہوری حوالے سے بڑی پیش رفت بھی کر رہے ہیں لیکن مختلف ممالک میں ایسے انسانوں کی تعداد کہیں زیادہ بنتی ہے، جو ترقی پسندانہ جمہوریت کی سفر میں آگےکے بجائے اب پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں دنیا کے بہت سے ممالک سے متعلق لبرل جمہوریتوں، انتخابی جمہوریتوں اور کئی دیگر حوالوں سے بہت سے اعداد و شمار شامل کیے گئے ہیں۔ایک بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ برس دنیا کی مجموعی آبادی کا نصف سے کچھ زائد حصہ بظاہر جمہوری طرز حکومت والے معاشروں میں رہ رہا تھا لیکن وہ انسان، جو لبرل جمہوریتوں میں رہ رہے تھے، ان کی تعداد عالمی آبادی کا محض 14 فیصد بنتی تھی۔اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے۔دنیا کے جن 24 ممالک میں جمہوریت کو زوال کا سامنا ہے۔

ان میں امریکا، روس، بھارت، ترکی، پولینڈ اور برازیل جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہیں۔ ان میں سے آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بھارت تو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی قرار دیتا ہے۔اس طرح گزشتہ ایک دہائی کے دوران کل قریب دو ارب کی آبادی والے کئی ایسے ممالک میں بہت امیر اشرافیہ کو بھی زیادہ سے زیادہ سیاسی طاقت مل گئی۔ ان میں سے سب سے بڑی مثال امریکا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے، جو ایک ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…