منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی بارڈر پولیس نے والدین کو 2 ہزار بچوں سے محروم کردیا

datetime 18  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکی ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق گزشتہ 6 ہفتوں میں امریکی سرحد پرغیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار بچے اپنیوالدین سے بچھڑ چکے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق 19 اپریل سے 31 مئی کے درمیانی عرصے میں 1 ہزار 995 بچے 1 ہزار 940 اہلخانہ سے بچھڑے۔اٹارنی جنرل جیف سیشنز

کی جانب سے اعلان کردہ‘زیرو ٹولرنس’پالیسی کے تحت ہوم لینڈ سیکیورٹی حکام تمام غیر قانونی تارکین وطن کے کیسز کو کرمنل مقدمات کے حوالے کررہے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی قوائد وضوابط کے مطابق غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے والدین کے ہمراہ بچوں پر کوئی کرمنل کیس عائد نہیں ہوتا۔ہوم لینڈ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن والدین کی گود سے روتے ہوئے بچوں کو زبردستی لینے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مقامی سیاستدانوں، چرچ گروپ اور بچوں کے تحفظ پر مشتمل غیر سرکاری تنظیموں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔بعض تارکین وطن نے بتایا کہ دودھ پیتے بچوں کو بھی ان کی ماؤں سے چھین لیا گیا۔دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی اینڈ جسٹس ڈیارٹمنٹ نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بچوں کی بہترین دیکھ بحال کی جاری ہے اور ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی منفی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔دوسری جانب انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے تارکین وطن کے ساتھ برتا جانے والا رویہ قابل مذمت ہے اور بچوں اور بیٹیوں کو بطور پیادہ استعمال کرنے والے ظالم پالیسی سازوں کی وجہ سے امریکا میں خاندانی اقدار اور انسانی حقوق کی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔اعدادو شمار کے مطابق مئی اور 6 جون کے درمیانی عرصے میں اضافی 38 بچوں کو والدین سے الگ کردیا گیا جبکہ اپریل میں 55 اور مارچ میں 64 سیزائد بچوں کو قبضے میں لے لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…