منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کا وہ ملک جہاں آسمان سے ’’ہیروں‘‘ کی بارش ہوتی ہے،کئی لوگوں کے دن بدل گئے،راتوں رات کروڑ پتی

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

رباط(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے جنوب میں واقع صحرائی علاقہ  میں آسمان سے شہاب ثاقب بڑی تعداد میں گرتے ہیں جو عالمی مارکیٹ میں بہت مہنگے فروخت ہوتے ہیں اور اس علاقے کے لوگوں کے لیے ہیروں سے بڑھ کر قیمتی ثابت ہو رہے ہیں۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں شہاب ثاقب کی تلاش کرنے والے محمد بوزگارین نامی شخص کا کہنا ہے کہ ’’شہاب ثاقب سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت کا انحصار ان کے نایاب ہونے پر ہوتا ہے۔ جو شہاب ثاقب جتنا نایاب ہو گا اس کی اتنی ہی زیادہ قیمت ہو گی۔ اس کے علاوہ اس کی شکل اور ہیئت بھی قیمت پر بہت اثرانداز ہوتی ہے۔ جو شہاب ثاقب مریخ سے آتے ہیں وہ سب سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ ان کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا 10ہزار مراکشی درہم (تقریباً1لاکھ 21ہزار روپے) میں فروخت ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ شہاب ثاقب سائنسدان خریدتے ہیں اوربیشتر ممالک میں یہ حکومت کی ملکیت تصور ہوتے ہیں لیکن مراکش میں اس حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے چنانچہ وہاں شہری انہیں تلاش کرکے بھاری رقوم کما رہے ہیں۔2011ء میں اس صحرا کے کئی کلومیٹر کے علاقے میں آسمان سے نایاب شہابیوں کی برسات ہوئی تھی، جو اب بھی ریت میں موجود ہیں۔ یہ اس قدر مہنگے فروخت ہوتے ہیں کہ ایک گرام شہابیے کی قیمت 500ڈالر(تقریباً 57ہزار روپے) سے 1ہزار ڈالر(تقریباً 1لاکھ 15ہزار روپے) تک ہوتی ہے۔زیادہ تر لوگ صحرا میں انہی شہابیوں کو تلاش کرتے پائے گئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…