اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ایران دشمن ملک، اسرائیل اور سعودی عرب کی ترجیحات اور مفادات مشترکہ، تخت پر براجمان ہونے کے بعدکیا کرونگا، سعودی ولی عہد اسرائیل کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے

datetime 3  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں تاہم اسرائیل کو بھی اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے، سعودی عرب اور اسرائیل کے مفادات اور ترجیحات مشترکہ، دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات فی الحال استوار نہیں ہوئے، سعودی ولی عہد کے بیان میں سعودی پالیسی میں جوہری تبدیلی کا عندیہ، امریکی اخبار سے گفتگو میں فلسطین کیلئے آواز اٹھاتے ہوئے

اسرائیل کو بھی حلیف قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے ایک امریکی اخبار دی اٹلانٹک سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک پُر امن ریاست میں رہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی اپنی زمین کا حق حاصل ہے اور دونوں ایک پُر امن ریاست میں رہنے کا حق رکھتے ہیں، سعودی عرب خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے تاہم اسرائیل کو بھی اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے۔سعودی ولی عہد نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی تو تردید کی تاہم اسرائیل کو حلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان فی الحال کوئی سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے ہمارے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے، ہماری ترجیح مفادات مشترکہ ہیں جیسا کہ دونوں ممالک کی نظر میں ایران دشمن اور امریکہ اہم اتحادی ملک ہے جب کہ دونوں ممالک کو مسلح اسلامی شدت پسندی سے بھی خطرہ لاحق ہے تاہم ہمیں نارمل تعلقات اور سب کے لیے استحکام کے لیے ایک امن معاہدے کو یقینی بنانا ہوگا۔ تخت پر براجمان ہونے کے بعد مکہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے سعودی عرب میں تبدیلیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں انقلابی اقدامات کے

ذریعے قدامت پسندی کے بجائے جدیدیت کو فوقیت دی ہے جس کے تحت کئی اہم پروجیکٹس پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے سعودی عرب کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…