جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ویلنٹائن ڈے سماجی تہوار، منانے میں کوئی شرعی امر مانع نہیں،سعودی عالم دین

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے سرکردہ عالم دین احمد قاسم الغامدی نے کہا ہے کہ ویلنٹائن ایک سماجی تہوار ہے اور اس کے منانے میں کوئی شرعی امر مانع نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مکہ مکرمہ میں امربالمعروف ونہی عن المنکر کمیٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل قاسم الغامدی نے’کہاکہ ہم عالمی سطح پر کئی دن مناتے ہیں۔ مثلا والدین کا عالمی دن، ماں کا عالمی دن، استاد کاعالمی دن یا خواتین کا عالمی دن وغیرہ، یہ سب سماجی نوعیت کے ایونٹ ہوتے ہیں۔

ان کا براہ راست مذہب کے بنیادی عقاید کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسلام میں ایسی سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کی کوئی ممانعت ہے۔ ویلنٹائن یا محبت کے عالمی دن کو منانے میں بھی کوئی شرعی پابندی نہیں ہے۔علامہ قاسم الغامدی نے کہا کہ اسلام بھی لوگوں کے درمیان اچھی بات کو عام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ آپ کسی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ خیر اور بھلائی کی بات صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ یہودی ونصاریٰ کے ساتھ بھی کی جاسکتی ہے۔ البتہ براہ راست جنگ کرنے اور لڑنے والے عناصر اس میں شامل نہیں۔ یہ صرف پرامن لوگوں تک محدود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے یہودی پڑوسیوں کے ہاں آتے جاتے رہتے اور ان کے مسائل کے حل میں ان کی مدد کرتے۔ اللہ کا فرمان بھی ہے’’قولوا للناس حسنا‘‘(لوگوں سے اچھے طریقے سے پیش آؤ)۔انہوں نے وضاحت کی ویلنٹائن ڈے کومنانے کے مخالفین اسے اسلام سے جوڑتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جاھلیت کے تہواروں میں سے ایک ہے۔ اگر کوئی مذہبی تہوار منانے کی کوشش کررہا ہیجس کا اسلام میں کوئی وجود نہیں تو وہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے، مگر ویلنٹائن ڈے ایک سماجی تہوار ہے، اس تہوار کے موقع پر ہم ایک دوسرے کے لیے محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں الغامدی نے کہا کہ یہودیوں اور عیسائیوں سمیت دوسرے غیرمسلموں کی عیدوں اور تہواروں پر ہم انہیں مبارک باد پیش کر سکتے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…