جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

میں تمہارے منہ پر تھپڑماروں گا، اگر تم نے ،پولینڈ میں پاکستانی سفارتخانے کا عملہ اوورسیز پاکستانیوں کیساتھ کیا سلوک کرتاہے،جان کر آپ کو یقین نہیں آئیگا

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دیار غیر  میں پاکستانیوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے تو ہر کوئی باخبر ہے۔ایسے میں اگر اپنے ہی ملک کا سفارتخانہ بھی کوئی مدد نہ کرے تو پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ایسی ہی کچھ  پولینڈ میں پیش آیا جہاں پاکستانی سفارت خانے کے عملے کے ہتک آمیز روئیے کے خلاف اوورسیز پاکستانی سراپا احتجاج بن گئے اور سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور سفارتخانے کے عملے کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولینڈ کے شہر وارسا کی ایمبیسی کے باہر احتجاج کرنے والے پاکستانیوں کا مطالبہ ہے کہ ایمبیسی کے عملے کو معطل کیا جائے۔واضح رہے کہ احتجاج کا یہ سلسلہ ایک پاکستانی نژاد پولیش فیملی کے ساتھ عملے کے ہتک آمیز روئیے کے بعد شروع ہوا۔ فیملی نے الزام عائد کیا ہے کہ میاں عظیم نامی سفارتی اہلکار نے پاکستانی نژاد شہری کی پولیش اہلیہ کے سامنے تھپڑ مارنے کی دھمکی دی اور تھپڑ مارنے کی یہ دھمکی موبائل فون فوٹیج میں ریکارڈ بھی کی گئی۔اس سے قبل شمیمہ سلمان نامی قونصلر نے ویزے کے حصول کیلئے آنے والی پولیش خاتون اور اس کی بچی کے کاغذات لینے سے انکار کردیا تھا۔ بعد ازاں کاغذات جمع تو کر لئے لیکن ویزا سے متعلق ابھی تک نہیں بتایا جارہا جبکہ پاسپورٹ بھی عملے کی تحویل میں ہے۔ متعدد بار سفارت خانے سے رابطہ کرنے پر بھی شنوائی نہیں ہو رہی جس پر ایمبیسی کے باہر احتجاج کیا گیا۔جب پولینڈ میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا تو شمیمہ سلمان نے پاسپورٹ اور کاغذات عملے کے پاس ہونے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے کہا کہ ویزا دینے سے متعلق فیصلہ اعلیٰ حکام کریں گے۔ انہوں نے جوابی الزام بھی عائد کیا کہ پولیش خاتون کے شوہر نے بھی عملے سے بدتمیزی کی تاہم ویڈیو میں عملے کی دھمکیوں کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔اس معاملے پر وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آسکی۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…