جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

گلگت بلتستان ہمارا حصہ، سی پیک ہماری سلامتی کیلئے خطرناک بھارت نے چین کو خبردار کرتے ہوئے کیا مطالبہ کر دیا

datetime 29  جنوری‬‮  2018 |

بیجنگ (آئی این پی )چین میں بھارت کے سفیر گوتم بمباوالا نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ ہمیں دومعاملات پر تحفظات ہیں ، ایک چین بھارت تجارت اوردوسرا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ان علاقے سے گزرتا ہے جن پر ہمارا دعویٰ ہے ، ا س طرح ہماری قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے،یہ ہمارے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے

اور ہم اس سلسلے میں چین کے ساتھ با ت چیت کرنا چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو دبا نہ دیا جائے ۔مجھے یقین ہے کہ جتنی ہمیں ایک دوسرے کیساتھ بات چیت کریں گے مسائل کا حل اتنا ہی آسان ہو جائے گا ، دوسرا بڑا مسئلہ چین کے ساتھ تجارت ہے جس میں بھارت کو 50ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے، بھارت اپنی ادویات اور آئی ٹی کی پراڈکٹس دنیا بھر میں فروخت کرتا ہے لیکن چین ہماری اشیاء نہیں خریدتا ہے ایسا کیوں ہورہا ہے ، ہم بیس سال سے چین سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری ان مصنوعات کیلئے اپنی مارکیٹ کے دروازے کھول دے لیکن وہ ایسا نہیں کررہا ، ہم اس سے کیا نتیجہ اخذکریں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مسائل پر کھلے دل سے بات چیت کرنی چاہئے اور مسائل کے حل کی طرف بھی قدم بڑھانا چاہئے۔ ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ۔ بھارتی سفیر نے کہاکہ چین اور بھارت کو اپنے معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے چاہئیں اور ڈوکلام تنازعہ سے پہلے والی صورتحال پر آجانا چاہئے ، ڈوکلام تنازعہ کے بارے میں جو’’ سٹیٹس کو ‘‘طے ہوئے ہے اس کا فریقین کو احترام کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ چین اوربھارت کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں اور ڈوکلام تنازعہ ہماری طویل تاریخ میں صرف ایک واقعہ ہے ،چین اور بھارت ترقی میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں مخالف نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…