پیر‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2025 

وہ ہوگیا جس کا کسی نے سوچابھی نہ تھا،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی جاری قطر کی ناکہ بندی سے قطر پر کیا اثر پڑا؟برطانوی تھنک ٹینک کے انکشافات

datetime 26  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے کئی ماہ سے اپنی ہمسایہ ریاست قطر کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس ناکہ بندی کے باوجود قطری معیشت میں مسلسل بہتری دیکھی جا رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق قطر کو سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں کی ناکہ بندی سے جو نقصان پہنچا وہ اْس کے سیاحتی شعبے میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ سیاحت کے شوقین حضرات نے گزشتہ برس جون سے شروع ہونے والے سعودی قظری تنازعے کے بعد اِس خلیجی ریاست کا رخ سابقہ برسوں کے مقابلے میں کم کیا۔

ایک اور قطری شعبہ جو متاثر ہوا ہے، وہ ہے ریئل اسٹیٹ کا کاروبار اور اس میں خاص طور پر غیر ملکی افراد نے اپارٹمنٹس کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار محدود کر دیا ہے۔ قطر کی ناکہ بندی کرنے والوں میں سعودی عرب کے ساتھ متحدہ عرب امارات، بحرین، اور مصر شامل ہیں۔لندن میں قائم بین الاقوامی اقتصادی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے تھنک ٹینک کیپیٹل اکنامکس کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سفارتی بحران کے بعد ایسا امکان پیدا ہوا تھا کہ قطری ریاست کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہو سکے گا لیکن دوحہ حکومت کساد بازاری کے خطرے کو زائل کرنے میں پوری طرح کامیاب رہی ہے۔کیپیٹپل اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاست کی اقصادیات نے گزشتہ برس کی آخری چوتھائی میں 1.9 کی شرح سے ترقی کی ہے۔ یہ شرح سن 2017 کی دوسری چوتھائی کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ رہی۔ اسی طرح قطر کا ہائیڈرو کاربن سیکٹر بھی مندی کا شکار نہیں ہوا اور اس کی شرح بدستور بہتر رہی۔کیپیٹل اکنامکس کے مطابق گزشتہ برس شروع ہونے والی ناکہ بندی کے سات مہینوں کے دوران قطری بینکوں کی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق ذمہ داریوں میں اضافے سے معلوم ہوتا ہے کہ قطری معیشت متحرک ہے۔کیپیٹل اکنامکس کے مطابق گزشتہ برس نومبر کے بعد سے قطر کی سیاحتی شعبے کو بیس فیصد کی کمی دیکھنا پڑی۔ اس باعث دوحہ حکومت کو چھ سو ملین ڈالر کے مساوی نقصان کا سامنا رہا۔ اسی طرح قطری ہوائی کمپنی کو بھی ناکہ بندی نے شدید انداز میں متاثر کیا۔ اس تنازعے نے قطر ایئر لائن کو کسی حد تک مسشکل میں ڈال رکھا ہے۔ اس کے مسافروں کی کمی پچیس فیصد تک رہی ہے۔

موضوعات:



کالم



پہلے درویش کا قصہ


پہلا درویش سیدھا ہوا اور بولا ’’میں دفتر میں…

آپ افغانوں کو خرید نہیں سکتے

پاکستان نے یوسف رضا گیلانی اور جنرل اشفاق پرویز…

صفحہ نمبر 328

باب وڈورڈ دنیا کا مشہور رپورٹر اور مصنف ہے‘ باب…

آہ غرناطہ

غرناطہ انتہائی مصروف سیاحتی شہر ہے‘صرف الحمراء…

غرناطہ میں کرسمس

ہماری 24دسمبر کی صبح سپین کے شہر مالگا کے لیے فلائیٹ…

پیرس کی کرسمس

دنیا کے 21 شہروں میں کرسمس کی تقریبات شان دار طریقے…

صدقہ

وہ 75 سال کے ’’ بابے ‘‘ تھے‘ ان کے 80 فیصد دانت…

کرسمس

رومن دور میں 25 دسمبر کو سورج کے دن (سن ڈے) کے طور…

طفیلی پودے‘ یتیم کیڑے

وہ 965ء میں پیدا ہوا‘ بصرہ علم اور ادب کا گہوارہ…

پاور آف ٹنگ

نیو یارک کی 33 ویں سٹریٹ پر چلتے چلتے مجھے ایک…

فری کوچنگ سنٹر

وہ مجھے باہر تک چھوڑنے آیا اور رخصت کرنے سے پہلے…