جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی میں 2017کے دوران 6500پاکستانیوں کی آمد،ایک کو پناہ مل سکی

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمن حکام نے پاکستانی تارکین وطن کی پناہ کی زیادہ تر درخواستیں ابتدائی فیصلوں میں ہی مسترد کر دیں ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت و ترک وطن (بی اے ایم ایف) نے 2017 میں جرمنی میں تارکین وطن ور مہاجرین کے بارے میں تفصیلی رپورٹ جاری کی ۔ وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا

کہ 2017 کے دوران پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی کم رہی۔اعداد و شمار کے مطابق اس پورے سال میں مجموعی طور پر ایک لاکھ چھیاسی ہزار مزید تارکین وطن جرمنی آئے۔ جب کہ مجموعی طور پر پناہ کے نئے درخواست گزاروں کی تعداد دو لاکھ بائیس ہزار رہی جن میں قریب ساڑھے چار ہزار پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔گزشتہ برسوں کی طرح سن 2017 میں بھی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب نہایت کم رہا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بیس ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کی پناہ کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے جن میں سے محض چار فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ انیس ہزار سے زائد (قریب چھیانوے فیصد) پاکستانیوں کو پناہ کا حقدار نہیں سمجھا گیا۔اس کے مقابلے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب چوالیس فیصد رہا اور بانوے فیصد سے زائد شامی مہاجرین کو بھی جرمنی میں پناہ دے دی گئی۔بی اے ایم ایف کے مطابق سن 2017 میں حکام نے 1422 پاکستانی شہریوں کی اپیل پر ان کی درخواستوں پر نظر ثانی کی۔نظر ثانی کے بعد ان میں سے صرف ایک پاکستانی شہری کو باقاعدہ مہاجر تسلیم کرتے ہوئے پناہ کا حقدار قرار دیا گیا جب کہ انتالیس پاکستانیوں کو دیگر درجوں میں عارضی طور پر جرمنی میں قیام کی اجازت ملی۔ یوں اپیلوں میں بھی پاکستانی تارکین وطن کی کامیاب درخواستوں کی شرح قریب ساڑھے پانچ فیصد رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…