جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

امریکہ نے 1986 میں پاکستان میں ہوائی جہاز کی ہائی جیکنگ کامعاملہ پھر اُٹھادیا، امریکی ایف بی آئی نے چار ہائی جیکروں کی نئی تصاویر جاری کردیں ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 18  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ان چار ہائی جیکروں کی نئی ڈیجیٹل تصاویر جاری کی ہیں جو 1986 میں پاکستان میں ہوائی جہاز کی ہائی جیکنگ میں ملوث تھے۔ اس حملے میں دو امریکی شہری بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ان تصاویر پر کمپیوٹر کی مدد سے ایسے عمل کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کی عمر کا فرق نظر آئے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ہوائی کمپنی پین ایم کی پرواز 73 ممبئی سے فرینکفرٹ جاتے  ہوئے کراچی کے ہوائی اڈے پر رکی تھی۔

اسے ان چار افراد اور ان کے سرغنہ زید حسن سفارینی نے ہائی جیک کر کے قبرص لے جانے کی کوشش کی تھی، تاہم جہاز کا عملہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور جہاز کراچی ہوائی اڈے پر کھڑا رہ گیا۔ حکام کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہائی جیکروں نے جہاز کے اندر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 20 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں پر قابو پا لیا۔ان چار مشتبہ افراد کے نام ودود محمد حافظ الترکی، جمال سعید عبدالرحیم، محمد عبداللہ خلیل حسین الرحیال اور محمد احمد المنور ہیں۔ یہ فلسطینی ہیں اور مبینہ طور پر ابوندال تنظیم سے وابستہ ہیں جسے امریکی محکمہ خارجہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔پاکستان عدالت نے پانچ ہائی جیکروں کو مجرم قرار دیا اور انھیں عمر قید کی سزا ہوئی۔ ہائی جیکنگ کے سرغنہ زید حسن سفارینی کو 2001 میں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا جہاں انھیں 160 برس قید کی سزا ہوئی۔دوسرے مجرم اپنی سزائیں کاٹنے کے بعد 2008 میں رہا کر دیے گئے تھے، جس کے بعد سے ان کا اب تک اتاپتہ نہیں ہے، تاہم ان کا نام اب تک ایف بی آئی کی ‘سب سے مطلوب افراد کی فہرست’ میں شامل ہے اور ادارہ انھیں پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔جمال سعید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ان کا نام ایف بی آئی کی فہرست میں بدستور شامل ہے۔ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی تک کھلا ہے اور ایف بی آئی نے سنہ 2000 میں یہ تصاویر حاصل کی تھیں جنھیں کمپیوٹر کی مدد سے اس طرح ٹریٹ کیا گیا ہے کہ ان افراد کی شکلیں ان کی حالیہ عمر کے مطابق ہوں۔ان اشخاص کی گرفتاری کے بارے میں معلومات دینے والے کو 50 لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…