بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کا طویل العمر شخص147سال کی عمر میں انتقال کر گیا،علی کیا کھاتا،کب اور کس کروٹ سوتا،کب جاگتا تھا،کس چیز سے بنی چیزیں زندگی بھر نہیں کھائیں،جان کر آپ دنگ رہ جائینگے

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کا سب سے طویل العمر شخص 147 سال کی عمر میں زندگی کی بازی ہار گیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی بن محمد بن مری الکامی نامی شخص نے 4 سال قبل مملکت کے سب سے طویل العمرشہری کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ وفات سے چند سال قبل ایک اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں عمر رسیدہ شخص

نےاپنے طرز زندگی کے حوالے سے حیران کن باتیں بتائی تھیں۔انٹرویو میں علی بن محمد نے بتایا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی اسپتال میں داخل نہیں ہوا کیونکہ وہ اپنے گھر میں ہی سبزیاں اور پھل اگا کر کھاتا ہے اس کے علاوہ زندگی بھر چینی سے بننے والی غذائیں استعمال نہیں کیں۔ ایک اور عمل جو ان کی طویل صحت کا سبب بنا وہ ان کا روزانہ نمازِ عشاء کی ادائیگی کے بعد سونا اور فجر سے پہلے اٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کرنا تھا۔ علاوہ ازیں وہ زندگی بھر سیدھی کروٹ سوتے تھے۔علی بن محمد نے بتایا کہ اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر انہوں نے آبائی علاقے میں 4 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے نماز جمعہ ادا کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…