بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

میرا جوہری حملے کا بٹن زیادہ بڑا اور طاقتور ہے، ٹرمپ کا شمالی کوریا کو جواب‎

datetime 3  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(این ایل آئی) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے حالیہ بیان کے ردعمل میں انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی میز پر بھی جوہری بٹن ہر وقت موجود ہوتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ‘شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ ایٹمی حملے کا بٹن ان کی میز پر ہوتا ہے، براہ کرم کوئی ان کی غریب اور غذائی قلت کی شکار ریاست کو

اطلاع دے دے کہ میرے پاس بھی جوہری حملے کا بٹن موجود ہے، جو بہت بڑا اور طاقتور ہے اور میرا بٹن کام بھی کرتا ہے’! یاد رہے کہ یکم جنوری کو سالِ نو کے موقع پر اپنے ٹی وی پیغام میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے دھمکی دی تھی کہ ایٹمی حملے کا بٹن ان کی میز پر ہوتا ہے اور امریکا کبھی بھی پیونگ یانگ کے خلاف جنگ شروع کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔کم جونگ ان کا مزید کہنا تھا، ‘یہ محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ میرے دفتر کی میز پر ایک ایٹمی بٹن موجود ہے’۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ‘پورا امریکا ہمارے ہتھیاروں کی رینج میں ہے اور ہماری ساری توجہ بیلسٹک میزائل اور ایٹمی وارہیڈ کو آپریشنل بنانے پر ہے’۔جنوری 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد جہاں امریکا نے بہت سے غیر معمولی اقدامات اٹھائے وہاں شمالی کوریا کے خلاف بھی سخت پابندیاں عائد کیں لیکن اس کے باوجود شمالی کوریا اپنے جوہری منصوبے کی تکمیل سے پیچھے نہ ہٹا اور امریکی پابندیوں کے ردعمل میں میزائل تجربات کرتا رہا۔شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ برس ہائیڈروجن بم کا تجربہ بھی کیا گیا اور اس تجربے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور خود شمالی کوریا میں زلزلے کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے

شمالی کوریا کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی دھمکی دی گئی تو کم جونگ ان کی جانب سے کہا گیا کہ پورا امریکا شمالی کوریا کے میزائلوں کے ہدف میں ہے۔دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کو برے القابات سے بھی پکارا گیا جب کہ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو وقت کا ضیاع بھی قرار دیا۔گذشتہ برس 29 نومبر کو شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو امریکا کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس موقع پر امریکا نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔جس کے بعد 23 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بین البراعظمی میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کردی تھیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…