جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

القدس اسرائیل کا نہیں بلکہ فلسطین کا دارالحکومت ،چین نے امریکہ سے ٹکر لے لی، زبردست اعلان

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے اوآئی سی کے غیر معمولی اجلاس کے اعلامیہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہو ، اس کی بنیاد 1967والی سرحدیں ہوں اور اس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ گزشتہ روزچینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کھانگ نے پریس بریفنگ کے دوران ترکی کے شہر استنبول

میں او آئی سی کے ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے فیصلے ،جس میں عالمی برادری برادری پر زوردیا گیا تھا کہ وہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرے اس پر انہوں نے کہا چین اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے بین الاقوامی برادری کی جانے والی اپیل کو حق بجانب قراردیتا ہے۔انہوں نے القدس سے متعلق مسئلے کے حل کے اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ ان کا ملک 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی القدس کے فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جلد ہی امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس مسئلے کو منصفانہ طور پر حل کیے جانے کی حمایت کرتا ہے۔ لوکھانگ نے تمام فریقین پر زوردیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق خطے میں امن کے فروغ کیلئے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے سے متعلق پر عزم رہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ القدس کی حیثیت پیچیدہ اور حساس ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریقین اس حوالے سے علاقائی امن وہم آہنگی کو مدنظر رکھیں اور محتاط انداز سے چلیں اور مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے طویل بنیادوں پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں سے گریز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…