منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں حالات قابو سے باہر،اشرف غنی کے ہوش ٹھکانے آگئے،پاکستان کے بارے میں حیرت انگیز اعلان کردیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن اور مصالحت کیلئے مخصوص اہداف اور اقدامات پر مشتمل ایک مناسب روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے، افغان حکومت اس سلسلے میں مکمل تعاون کیلئے تیار ہے، علاقائی ممالک کے تعلقات مثبت اور دیرپا ہونے چائیں۔جمعرات کو افغان خبررساں ادارے ’’خاما پریس ‘‘ کے مطابق صدر اشرف غنی نے یہ بات کابل میں پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو کے ساتھ ملاقات میں کہی۔

صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اشرف غنی اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کے درمیان ملاقات میں علاقائی صورتحال ،امن و استحکام اور کابل اور اسلام آباد کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔برطانوی ہائی کمشنر نے اس موقع پر کہاکہ جنوبی ایشیا کیلئے نئی امریکی حکمت عملی کے بعد دستیاب مواقعوں سے مناسب طریقے سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔انھوں نے کہاکہ افغانستان اور خطے میں سلامتی کیلئے ہر سطح پر جامع مذاکرات کی ضرورت ہے۔اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ مصالحت کے لئے مخصوص اہداف اور اقدامات پر مشتمل مناسب روڈ میپ ضروری ہے تاکہ اس بات پر غور کیاجاسکے کہ امریکہ کی جنوبی ایشیاکیلئے نئی حکمت عملی نے علاقائی تعاون کیلئے ماحول اور موقع پیدا کیا ہے۔اشرف غنی نے مزید کہا کہ افغان حکومت اس سلسلے میں مکمل حمایت کیلئے تیار ہے، علاقائی ممالک کے تعلقات مثبت اور دیرپا ہونے چائیں۔اس موقع پر پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہاکہ وہ اس سلسلے میں تعاون جاری رکھیں گے تاکہ افغانستان اور خطے میں امن اور استحکام کیلئے دستیاب مواقع استعمال کیے جائیں۔واضح رہے کہ ایک تازہ امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے گزشتہ 6 ماہ میں افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں توسیع کی ہے

اور اس وقت 54 اضلاع پر طالبان کا کنٹرول ہے جو کہ ملک کا گیارہ فیصد علاقہ بنتا ہے افغانستان کے 34 صوبوں میں کل 407 اضلاع ہیں افغانستان میں امریکی منصوبوں کی نگرانی والے ادارے’’سگار‘‘ نے بدھ کو اپنی سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے گزشتہ 6 ماہ میں 9 نئے اضلاع پر کنٹرول حاصل کیا ہے ۔ یاد رہے کہ طالبان نے اس سال اپریل میں موسم بہار کے آپریشن شروع کرنے کے بعد حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں 13 فیصد علاقوں میں کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تقریباً سات لاکھ کی مزید آبادی طالبان کے کنٹرول میں آ گئی ہے ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ سے متاثرہ ملک میں سیکیورٹی کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی ہے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں پہلی مرتبہ افغان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں کمی آئی ہے ۔ سگار کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے 2015 میں افغانستان کا ڈیٹا جمع کرنے کے بعد افغانستان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں 15 فیصد کمی ہوئی ہے ۔ مزید تفصیلات دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11.4 فیصد کی آبادی جو تقریباً 37 لاکھ شہریوں پر مشتمل ہے اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں یہ گزشتہ چھ ماہ میں مزید سات لاکھ طالبان کے کنٹرول میں آئے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق 122 اضلاع کی صورت جوں کی توں رہی سگار کے مطابق 2002 ء سے افغانستان کیلئے 121 ارب ڈالر میں سے 60 فیصد افغان سیکیورٹی فورسز کیلئے مختص کیا گیا ہے رپورٹ میں پہلی مرتبہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ہلاک اور زخمی ہونیوالوں کی تعداد کو ظاہر نہیں کیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق افغان فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونیوالوں کی تعداد کے بارے میں افغان حکومت نے شائع نہ کرنے کی استدعا کی تھی اور کہا تھا کہ اسے شائع کرنا یا نہ کرنا ان کا حق ہے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں لڑائی کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے رواں سال کے پہلے مہینوں میں 10 امریکی فوجی ہلاک اور 48 زخمی ہوئی ہیں جو کہ 2015 ء اور 2016 ء کی اسی مدت سے دوگنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ افغان فوجیوں کی تعداد میں چار ہزار اور پولیس میں پانچ ہزار کی کمی ہوئی ہے امریکی اور افغان فوجیوں پر اندر سے حملوں میں بھی اس سال کے دوران اضافہ ہوا ہے حملہ آور یا تو طالبان کی طرف سے شامل ہوتے ہیں یا ان کے ہمدرد ہوتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…