منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو پر بنگلہ دیش کا معافی کا مطالبہ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ڈھاکہ /لندن(آئی این پی )بنگلہ دیش نے ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو پر پاکستان سے معافی کا مطالبہ کردیا ۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو پر بنگلہ دیش کے دفتر خارجہ نے پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر بنگلہ دیش کی آزادی کے حوالے سے ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی جس پر دفتر خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاج کیا اور معافی کا مطالبہ کیا۔بنگلہ دیش کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر رفیع الزمان صدیقی کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔بیان کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ویڈیو میں کہا گیا تھا کہ شیخ مجیب الرحمان آزادی نہیں بلکہ خود مختاری چاہتے تھے۔احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ کہنا کہ شیخ مجیب الرحمان آزادی نہیں چاہتے تھے ایک جھوٹ ہے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔پاکستانی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ سیکریٹری (یورپ، افریقہ اور امریکہ)قمرالاحسن نے دیا۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے یہ جان بوجھ کر سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے۔یہ سفارتی آداب کی خلاف ورزی ہے اور اس قسم کے پروپیگنڈے سے باہمی تعاون کو نقصان پہنچے گا۔بنگلہ دیش کے اخبار دا ڈیلی سٹار کے مطابق سیکریٹری قمرالاحسن نے پاکستانی سفیر کو طلب کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے ویڈیو شائع ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور ویب سائٹ سے ویڈیو ہٹا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…