جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

قطر جی سی سی کو کمزور اور نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بحرینی وزیر خارجہ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

منامہ(این این آئی)بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ قطری میڈیا کی جانب سے خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) اور اس کے سیکریٹری جنرل کو ہدف بنانے سے اس امر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ قطر کو کونسل کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ اس کو کمزور کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔میڈیارپورٹس کے

مطابق ان کے اس ٹویٹ سے قبل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے سیکریٹری جنر ل عبد اللطیف الزیانی نے ایک بیان میں قطری میڈیا کے بعض ذرائع کے غیر ذمے دارانہ طرز عمل اور کونسل پر حملوں کی مذمت کی ۔انھوں نے قطر کے بعض خبری اداروں کی جانب سے جی سی سی کے خلاف مہم کو غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ وہ تمام روایات ، اقدار اور میڈیا کی پیشہ واریت کی حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔انھوں نے قطری میڈیا کے بعض ذرائع کی اس کوشش پر حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل کو خلیج بحران کے حل کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے قطر کے بعض صحافیوں کی جانب سے بحران کو ان کی بحرین کی شہریت سے جوڑنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جی سی سی کے نظم کے تحفظ کے لیے سپریم کونسل کی تفویض کردہ ذمے داریوں کو بہ طریق احسن انجام دیتے رہیں گے۔بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کو برقرار رکھنے کے لیے درست قدم یہ ہوگا کہ تنظیم میں قطر کی رکنیت کو منجمد کردیا جائے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک وہ ہمارے ممالک کے مطالبات کا جواب نہیں دے دیتا لیکن اگر وہ کونسل کو خیرباد کہہ دیتا ہے تو یہ ہمارے لیے بہتر ہوگا۔انھوں نے مزید لکھا کہ بحرین (قطر

کی موجودگی میں) کسی سربراہ اجلاس میں شرکت کرے گا اور نہ قطر کے ساتھ بیٹھے گا کیونکہ وہ روز بروز ایران کے قریب ہوتا جارہا ہے اور غیر ملکی فورسز کو تیار کررہا ہے۔ یہ جی سی سی کے رکن ممالک کی سلامتی کے لیے خطرناک اقدامات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…