منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قطر جی سی سی کو کمزور اور نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بحرینی وزیر خارجہ

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

منامہ(این این آئی)بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ قطری میڈیا کی جانب سے خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) اور اس کے سیکریٹری جنرل کو ہدف بنانے سے اس امر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ قطر کو کونسل کا کوئی احترام نہیں ہے اور وہ اس کو کمزور کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔میڈیارپورٹس کے

مطابق ان کے اس ٹویٹ سے قبل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے سیکریٹری جنر ل عبد اللطیف الزیانی نے ایک بیان میں قطری میڈیا کے بعض ذرائع کے غیر ذمے دارانہ طرز عمل اور کونسل پر حملوں کی مذمت کی ۔انھوں نے قطر کے بعض خبری اداروں کی جانب سے جی سی سی کے خلاف مہم کو غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ وہ تمام روایات ، اقدار اور میڈیا کی پیشہ واریت کی حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔انھوں نے قطری میڈیا کے بعض ذرائع کی اس کوشش پر حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل کو خلیج بحران کے حل کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے قطر کے بعض صحافیوں کی جانب سے بحران کو ان کی بحرین کی شہریت سے جوڑنے پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جی سی سی کے نظم کے تحفظ کے لیے سپریم کونسل کی تفویض کردہ ذمے داریوں کو بہ طریق احسن انجام دیتے رہیں گے۔بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کو برقرار رکھنے کے لیے درست قدم یہ ہوگا کہ تنظیم میں قطر کی رکنیت کو منجمد کردیا جائے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک وہ ہمارے ممالک کے مطالبات کا جواب نہیں دے دیتا لیکن اگر وہ کونسل کو خیرباد کہہ دیتا ہے تو یہ ہمارے لیے بہتر ہوگا۔انھوں نے مزید لکھا کہ بحرین (قطر

کی موجودگی میں) کسی سربراہ اجلاس میں شرکت کرے گا اور نہ قطر کے ساتھ بیٹھے گا کیونکہ وہ روز بروز ایران کے قریب ہوتا جارہا ہے اور غیر ملکی فورسز کو تیار کررہا ہے۔ یہ جی سی سی کے رکن ممالک کی سلامتی کے لیے خطرناک اقدامات ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…