جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

سعودی خواتین اپنی موت کے بعد کس بات سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں، سعودی عرب میں نئی بحث چھڑ گئی!!

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ماؤں نے اپنی زندگی میں اپنی غیر ملکی اولاد کو میسر سہولتوں سے اپنی وفات کے بعد محرومی کے خوف نے تشویش اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری موت کے بعد نہیں معلوم سعودی عرب میں مقیم ہماری اولاد کا کیا ہوگا۔سعودی صحافی خاتون غادہ العلی نے اس حوالے سے غیر ملکیوں کی سعودی ماؤں کے تاثرات دریافت کر کے سوشل میڈیا پر جاری کر دیئے۔ غادہ العلی نے ٹویٹر

کے اپنے اکاؤنٹ پر ایک سوال تحریر کیاتھا۔ ” سعودی ماں کی وفات کے بعد اس کی غیر ملکی اولاد کا انجام کیا ہو گا؟”اس سوال نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ دل کو چھونے والے المناک واقعات نے سوشل میڈیا کے شائقین کو غمزدہ کر دیا۔ ا م خالد نے انتہائی درد کے ساتھ تحریر کیا کہ مجھے لگتا ہے کہ میری غیر ملکی اولاد غیر ملکی کارکن میں تبدیل ہو جائے گی۔ کفیل تلاش کرنے کیلئے ہاتھ پیر مارتے گی ۔ تمام رعایتوں سے محروم کر دی جائے گی۔ بیدخلی کی تلوار سر پر لٹک جائے گی ۔ میں یہ سوچ کر انتہائی تشویش میں مبتلا ہوں۔ پتہ نہیں میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ میں اصلی سعودی خاتون ہوں۔ مجھے اپنے وطن میں اپنی اولاد کے وقار کے تحفظ کا حق اسلام، قانون اور انسانیت نے دیا ہے۔ام خالد نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے اپیل کی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے پھر سعودی ویژن 2030اور باعزم رہنما محمدبن سلمان سے المیہ حل کرانے کی امید ہے۔ ام براءنے کہا کہ ما ںہی اولاد کی دنیا ہوتی ہے۔ اگر سعودی خواتین کی اولاد وطن سے محروم کر دی گئی تو ان کا سہارا کون بنے گا؟ فاطمہ عبداللہ نے کہا کہ سعودی ماؤں کی غیر ملکی اولاد بے رحم بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ شادیہ الغامدی نے کہا کہ ماں کے مرنے کے بعد اولاد کو لاچار بنا دینا۔ کہا ںکی انسانیت ہے؟شہریت ریاست کے انتظامی نظم سے کہیں زیادہ انسانی ضرورت ہے۔ ایک سعودی ماں

کی بیٹی نے تحریر کیا کہ جس غیر ملکی اولاد کی مائیں وفات پا چکی ہیں۔ وہ کفیل کی تلاش میں تجھ مجھ کی خوشامد کر رہے ہیں۔ اسی طرح کے تاثرات کا اظہار دیگر سعودی ماؤں اور ممتا سے محروم غیر ملکی اولاد نے سوشل میڈیا پر کیا ہے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…