منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی خواتین اپنی موت کے بعد کس بات سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں، سعودی عرب میں نئی بحث چھڑ گئی!!

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ماؤں نے اپنی زندگی میں اپنی غیر ملکی اولاد کو میسر سہولتوں سے اپنی وفات کے بعد محرومی کے خوف نے تشویش اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری موت کے بعد نہیں معلوم سعودی عرب میں مقیم ہماری اولاد کا کیا ہوگا۔سعودی صحافی خاتون غادہ العلی نے اس حوالے سے غیر ملکیوں کی سعودی ماؤں کے تاثرات دریافت کر کے سوشل میڈیا پر جاری کر دیئے۔ غادہ العلی نے ٹویٹر

کے اپنے اکاؤنٹ پر ایک سوال تحریر کیاتھا۔ ” سعودی ماں کی وفات کے بعد اس کی غیر ملکی اولاد کا انجام کیا ہو گا؟”اس سوال نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ دل کو چھونے والے المناک واقعات نے سوشل میڈیا کے شائقین کو غمزدہ کر دیا۔ ا م خالد نے انتہائی درد کے ساتھ تحریر کیا کہ مجھے لگتا ہے کہ میری غیر ملکی اولاد غیر ملکی کارکن میں تبدیل ہو جائے گی۔ کفیل تلاش کرنے کیلئے ہاتھ پیر مارتے گی ۔ تمام رعایتوں سے محروم کر دی جائے گی۔ بیدخلی کی تلوار سر پر لٹک جائے گی ۔ میں یہ سوچ کر انتہائی تشویش میں مبتلا ہوں۔ پتہ نہیں میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ میں اصلی سعودی خاتون ہوں۔ مجھے اپنے وطن میں اپنی اولاد کے وقار کے تحفظ کا حق اسلام، قانون اور انسانیت نے دیا ہے۔ام خالد نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے اپیل کی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے پھر سعودی ویژن 2030اور باعزم رہنما محمدبن سلمان سے المیہ حل کرانے کی امید ہے۔ ام براءنے کہا کہ ما ںہی اولاد کی دنیا ہوتی ہے۔ اگر سعودی خواتین کی اولاد وطن سے محروم کر دی گئی تو ان کا سہارا کون بنے گا؟ فاطمہ عبداللہ نے کہا کہ سعودی ماؤں کی غیر ملکی اولاد بے رحم بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ شادیہ الغامدی نے کہا کہ ماں کے مرنے کے بعد اولاد کو لاچار بنا دینا۔ کہا ںکی انسانیت ہے؟شہریت ریاست کے انتظامی نظم سے کہیں زیادہ انسانی ضرورت ہے۔ ایک سعودی ماں

کی بیٹی نے تحریر کیا کہ جس غیر ملکی اولاد کی مائیں وفات پا چکی ہیں۔ وہ کفیل کی تلاش میں تجھ مجھ کی خوشامد کر رہے ہیں۔ اسی طرح کے تاثرات کا اظہار دیگر سعودی ماؤں اور ممتا سے محروم غیر ملکی اولاد نے سوشل میڈیا پر کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…