منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خاتون نے مودی کے منہ پر چوڑیاں دے ماریں ویڈیو وائرل ہوگئی ،خاتون گرفتار

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

گجرات(اے این این) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے چہرے پر خاتون نے چوڑیاں دے ماریں۔نریندر مودی کے چہرے پر بھارتی ریاست گجرات کے شہر ودودرا میں روڈ شو کے دوران چلتی گاڑی میں این جی اوآشاسے تعلق رکھنے والی خاتون چندریکا سولنکی نے چوڑیاں دے ماریں۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی غلط پالیسیوں اور شدت پسندی کے باعث دیگر ممالک کے علاوہ اپنے ہی ملک بھارت میں بھی

سخت ناپسند کئے جاتے ہیں۔ جس کی تازہ مثال حال ہی میں دیکھنے میں آئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نریندرامودی چند روز قبل مختلف پروجیکٹس کے افتتاح کے سلسلے میں گجرات میں موجودتھے۔ وہ گجرات کے شہرودوردراز کے علاقے نولاکھی گرانڈ سے اپنی گاڑی میں ائیرپورٹ کی جانب جارہے تھے، مودی کی آمد کا سن کرعلاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی اورپرجوش ہوکر نعرے لگارہی تھی۔مودی بھی ہاتھ ہلاکرلوگوں کے نعروں کا جواب دے رہے تھے جب اچانک ہی بھیڑ میں موجود ایک خاتون نے مودی کے چہرے پر اپنی چوڑیاں دے ماریں۔ یہ دیکھ کر پہلے تو مودی ہکا بکا رہ گئے تاہم بغیر کوئی ردعمل ظاہر کئے وہاں سے چلے گئے جب کہ مودی کی سیکیورٹی پرمامورافسران نے خاتون کو گرفتار کرلیا۔خاتون کا نام چندریکا سولنکی ہے اور اس کا تعلق ایک این جی اوآشاسے ہے۔ ایک سوشل ورکر جگنیش نے ٹویٹ کرتے ہوئے چندریکا کی جانب سے مودی پر چوڑیاں پھینکنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلی آشا میں کام کرنے والی خواتین کو کم ازکم 45 ہزار روپے اجرت دینے پر راضی نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ سولنکی نے یہ حرکت کی۔ چندریکا سولنکی کی مودی پر چوڑیاں پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ آشامیں کام کرنے والی خواتین کا مطالبہ ہے کہ انہیں مستقل حکومتی ملازمین کے برابرسہولیات دینے کے ساتھ شناختی کارڈ جاری کئے جائیں، کام کے اوقات مقرر کئے جائیں اور زچگی کی چھٹیاں بھی دی جائیں۔ تاہم حکومت بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود ان کے مطالبات نہیں مان رہی لہذا سولنکی نے احتجاجا مودی پر چوڑیاں پھینکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…