منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں حالات قابو سے باہر،انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں بے روزگاری کی شرح 12.8فیصد تک پہنچ گئی،بے روزگار غیر ملکیوں کی تعداد 66ہزار سے تجاوز کر گئی تاہم سعودی نوجوانوں نے مطالبہ کیاکہ بیروزگا رغیر ملکیوں کو مملکت سے بیدخل کیا جائے اور سعودائزیشن کے ہدف کو یقینی بنانے کیلئے سعودی کی کم از کم تنخواہ 8ہزار ریال مقرر کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین اقتصاد نے واضح کیا ہے کہ سعودیوں میں بیروزگاری 12.8فیصد تک پہنچ گئی

جبکہ بے روزگار غیر ملکیوں کی تعداد 66ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ شماریات نے 2017کی دوسری سہ ماہی سے متعلق اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سعود ائزیشن پہلی ترجیح کے زیرعنوان اعدادوشمار جمع کئے جارہے ہیں۔ تارکین وطن کی بلیک مارکیٹ ترقی پر ہے اور سعودیو ں کے نام سے غیر ملکیو ں کے کاروبار کا تناسب بڑھتا جارہا ہے۔ رکن شوری فہد بن جمعہ نے کہا کہ سعودائزیشن کے فیصلے کے بعد ایسے کسی بھی غیر ملکی کو نقل کفالہ کی اجازت نہ دی جائے جس کا معاہدہ ختم کردیا گیا ہو۔ عبداللہ بن محفوظ نے کہا کہ جو سعودائزیشن پر قادر ہے وہ مارکیٹ میں ٹک سکے گا۔ خسارے کے امکانات نہ ہونے کے برابرہیں۔ انشورنس کمپنیوں کے ترجمان نے کہا کہ بعض اسامیوں میں سعودائزیشن 100فیصد ہوچکی ہے اور سال رواں کے آخر تک 65فیصد کاباقیماندہ ہدف پورا کرلیا جائیگا۔ ماہر اقتصاد احسان بو حلیقہ کا کہناہے کہ بعض پیشے ایسے ہیں جن میں ڈگری ناکافی ہے۔ تجربہ اور لیاقت ضروری ہے۔ سعودی نوجوانوں نے شکوہ کیا کہ بعض ممالک کے لوگ انشورنس، گولڈ مارکیٹ اور ٹھیکیداری کے شعبوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم کہاں سے تجربہ حاصل کریں۔ ملازمت نہیں تو تجربہ کیسے لے سکیں گے؟ نوجوانوں نے مطالبہ کیاکہ بیروزگا رغیر ملکیوں کو مملکت سے بیدخل کیا جائے اور سعودائزیشن کے ہدف کو یقینی بنانے کیلئے سعودی کی کم از کم تنخواہ 8ہزار ریال مقرر کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…