پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اس سیلفی سے چند سعودیوں کو کیوں نفرت ہے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی اٹھائے جانے کے اعلان کے بعد ٹوئٹر پر ایک بحث چھڑ گئی ہے جس کا موضوع ایک سیلفی ہے جس میں ایک شخص اپنی بیوی کو گاڑی چلانا سکھا رہا ہے۔فیصل بدوغیش مشرقی سعودی عرب کے علاقے ظہران میں قائم ایک تیل اور گیس کی کمپنی میں تجزیہ کار ہیں۔انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک خالی کار پارکنگ میں کھینچی گئی ایک تصویر ٹویٹ کی تھی۔

ٹویٹ میں لکھا تھا ‘میں نے اپنی بیوی کو سکھانا شروع کردیا ہے کہ کیسے پرائیویٹ پارکنگ میں محفوظ اور قانونی طریقے سے گاڑی چلائی جا سکتی ہے، انتظار ہے کہ قانون نافذ العمل ہو’۔بی بی سی عربی کی لامیس الطالبی کے مطابق ہزاروں بار ری ٹویٹ کی جانے والی اس سیلفی پر جو رد عمل سامنے آیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی کا اٹھایا جانا کتنا متنازع ہے۔چند لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ فیصل کی اس تصویر کو ناپسند کرتے ہیں جس میں ان کی اہلیہ کا چہرہ نظر آرہا ہے۔ایک صارف نے ان کی تصویر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ‘آپ کو شرم نہیں آتی اس کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے؟ شرم آنی چاہیے’۔لیکن کئی خواتین نے اس ٹویٹ پر بڑے مثبت رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بھی منتظر ہیں کہ ان کے خاندان کے مرد بھی انھیں گاڑی چلانا سیکھائیں۔عمل ندھرین نامی خاتون نے کمنٹ کیا ‘کل میرا بیٹا عضام مجھے گاڑی چلانا سکھائے گا’۔چند مردوں نے جن میں فیصل الشہری بھی شامل ہیں ٹویٹ کیا ‘ہم سب آپ کی قائم کی ہوئی مثال کی تقلید کریں گے’۔البتہ، دوسری خواتین نے بتایا کہ شاہی فرمان کی وجہ سے ان کے اپنے خاندانوں کے اندر بحث شروع ہو گئی ہے۔جلنار کے نام سے ٹویٹ کی گئی ‘میں اپنے بیٹے سے تربیت حاصل کروں گی،

حالانکہ میرے شوہر نے منع کیا ہے لیکن میں نہیں مانوں گی’۔بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے فیصل بدوغیش نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ ‘بے چینی سے انتظار’ کر رہے ہیں کہ سعبدی عرب کا قانون تبدیل ہو۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی سیلفی دیگر سعودی مردوں کی حوحلہ افزائی کرے گی کہ وہ بھی اپنی رشتہ دار خواتین کو گاڑی چلانا سکھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کو بھی متاثر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ قانونی انداز میں تربیت حاصل کریں

کیونکہ فی الحال اس کی اجازت نہیں ہے کہ خواتین سعودی عرب کی مرکزی شاہراہوں پر گاڑی چلانے کی مشق کریں۔ان کی اہلیہ نے اس تربیت کو شاندار قرار دیا ہے۔ دعا بدوغیش نے بی بی سی کے باہر کے ذرائع کو بتایا کہ ‘ڈرائیونگ سیکھنا کچھ مشکل ہے لیکن میں امید کر رہی ہوں کہ جلد ہی سیکھ لوں گی’۔فیصل کا کہنا ہے کہ ان کو موصول ہونے والے چند پیغامات تو دھمکی آمیز تھے جس کے بارے میں انھوں نے سعودی عرب کے

سائبر کرائم کے شعبے کو آگاہ کر دیا ہے۔اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب نے وہ تاریخی اعلان کیا تھا جس میں سعودی خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ سعودی خواتین جون 2018 میں گاڑی چلاسکیں گی۔خلیجی ریاست دنیا میں واحد ملک ہے جہاں خواتین کو ڈرائیونگ کرنے کی اجازت نہیں اور صرف مردوں کو ہی لائسنس دیا جاتا ہے۔ ایسی خواتین جو عوامی مقامات پر گاڑی چلاتی ہیں انھیں جرمانے اور گرفتاری کا خطرہ رہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…